مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 266
266 ہے کہ جیسا کہ امام ابن قیم نے فرمایا ہے فی الواقعہ ایسا ہی ہے۔اس عقیدہ کی بناء حدیث رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم پر نہیں بلکہ یہ نصاری کی روایات ہیں اور ان سے ہی یہ عقیدہ آیا ہے۔پہلی دلیل اور اس کی تردید تردید حیات مسیح ناصری علیہ السلام وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبّه لَهُم۔بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء: ۱۵۸ ۱۵۹) ترجمہ۔نہ انہوں ( یہود نا مسعود) نے مسیح کوقتل کیا اور نہ صلیب پر مارا، بلکہ اللہ نے سینے کو اٹھالیا۔بل ابطالیہ کا ابطال استدلال علماء : (۱) بَل اضرا بیہ ابطالیہ ہے جو ابطال جملہ اُولیٰ واثبات جملہ ثانیہ کی غرض سے آتا ہے۔جب نہ قتل ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے تو یقینا زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔جواب:۔آسمان پر جانے اور مقتول و مصلوب ہونے میں کوئی ضدیت نہیں۔کیا جو نہ مقتول ہو، نہ مصلوب وہ آسمان پر اٹھایا جاتا ہے؟ کیا آنحضرت کو حضرت موسی کو زندہ آسمان پر مانتے ہو؟ کیونکہ نہ وہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب۔جواب نمبر ۲:۔آیت مذکور میں بل کو ابطالیہ قرار دینا غلط ہے بوجوہات ذیل۔قرآن کریم میں ہے وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ بَلِ ادْرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ (النمل: ۲۷،۲۲) الف۔اس آیت میں تین دفعہ بل آیا ہے اور تینوں جگہ ابطالیہ نہیں بلکہ ترقی انْتِقَالُ مِنْ غَرْضِ إِلَى اخر ) کے لئے آیا ہے۔بَلْ رَفَعَهُ اللهُ الَیهِ والی آیت میں بل کا ماقبل اور مابعد کلام خدا ہے۔پس بل ابطالیہ نہیں ہوسکتا۔نحویوں نے لکھا ہے کہ قرآن کریم میں بَل ابطالیہ نہیں آسکتا۔ہاں جب خدا تعالیٰ کفار کا قول نقل کرے تو بغرض تردید اس میں بَل ابطالیہ آسکتا ہے ورنہ اصالتاً خدا تعالیٰ کے کلام میں ابطالیہ وارد نہیں ہوسکتا۔ملاحظہ ہو:۔ا۔مشہور نحوی ابن مالک کہتا ہے۔اِنَّهَا لَا تَقَعُ فِي التَّنْزِيلِ إِلَّا عَلَى هَذَا الْوَجْهِ أَيْ لِانْتِقَالِ مِنْ غَرَضِ إِلَى اخَرَ) (القصر المینی جلد ا صفحه ۵۸۲) که قرآن کریم میں بل سوائے ترقی کے اور کسی صورت میں (یعنی بغرض ابطال ) نہیں آتا۔