مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 261 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 261

261 باقی مصنف محمدیہ پاکٹ بک نے جو قول احمد کا ابن لہیعہ کے غیر ثقہ ہونے کی تائید میں نقل کیا ہے اس کے آگے ہی لکھا ہے وَهُوَ يُقَوّى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ (تهذيب التهذيب جلد۵ صفحه۳۷۵) که ابن لہیعہ کی ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت پہنچتی ہے۔پس حدیث متنازعہ ایسی ہی ہے جو صرف ایک طریق سے مروی نہیں بلکہ تین مختلف طرق سے مروی ہے۔پس نہایت ثقہ اور مضبوط ہے وھوالمراد۔- مَا مِنْ نَفْسٍ مَّنْفُوسَةٍ فِى الْيَوْمِ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ (کنز العمال جلدے صفحہ ۱۷۰۔راوی جابر و مسلم کتاب نمبر 1) ترجمہ:۔آج کوئی جاندار ایسا نہیں کہ اس پر سو(۱۰۰) سال آوے اور وہ فوت نہ ہو بلکہ زندہ ہو۔یعنی سو سال کے اندر ہر جاندار انسان جانور وغیرہ مر جائیں گے۔پس حضرت عیسی بھی فوت ہو گئے۔قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ رِيحًا يَبْعَثُهَا عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ تَقْبِضُ رُوحَ كُلّ مُؤْمِنٍ۔هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْأَسْنَادِ۔(مستدرک کتاب الفتن و الملاحم صفحہ ۴۵۷ مطابع النصر الحديثية الرياض ) ترجمہ :۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر سو (۱۰۰) سال کے بعد ایک ایسی ہوا بھیجتا ہے جو ہر مومن کی روح قبض کر لیتی ہے۔اس حدیث کی سند صحیح ہے۔پس حضرت مسیح بھی بوجہ مومن ہونے کے اس ہوا کی زد سے نہیں بچ سکتے۔یادر ہے کہ اس حدیث میں زمین یا آسمان کی کوئی قید نہیں ہے۔۔ابن مردویہ نے ابوسعید سے روایت کیا کہ ادَمُ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا تُعْرَضُ عَلَيْهِ اَعْمَالُ ذُرِّيَّتِهِ وَ يُوسُفُ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ وَ ابْنَاءُ الْحَالَةِ يَحْى وَعِيسَى فِى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ وَ إِدْرِيسُ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ وَ هَارُونُ فِي السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ وَ مُوسَى فِى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَ إِبْرَاهِيمُ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ۔(کنز العمال كتاب الفضائل فضائل سائر الانبياء صلوات الله و سلامه علیهم اجمعین) ترجمہ:۔آنحضرت نے فرمایا کہ آدم پہلے آسمان پر ہے ، اس پر اس کی اولاد کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور یوسف دوسرے آسمان پر ہے اور پھوپھی زاد بھائی سی و عیسی دونوں تیسرے آسمان پر ہیں اور حضرت اور میں چوتھے آسمان میں اور ہارون پانچویں میں اور موسیٰ چھٹے میں اور حضرت ابراہیم