مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 251 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 251

251 عُمَرُ فَأَبِي عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا بَعْدُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَى لَا يَمُوتُ قَالَ اللهُ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إلى قوله الفكرِيْنَ وَقَالَ وَاللهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَتَلَقْهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَمَا أَسْمَحَ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا۔فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ ابْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقَرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِى رِجَلَايَ وَ حَتَّى اَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حِيْنَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ۔یہ خطبہ مسند امام ابوحنیفہ صفحہ ۱۸۸ اور حمام الاسلامیۃ صفحہ ۵۴ پر بھی موجود ہے۔تو حضرت ابو بکر نے خطبہ پڑھا جس میں بتایا کہ جس طرح اور رسول فوت ہو چکے ہیں آنحضرت بھی فوت ہو گئے ہیں۔جس پر صحابہ میں سے کسی نے انکار نہ کیا اور حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ میں کھڑا نہ ہوسکتا تھا اور زمین پر گر گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ آنحضرت فی الواقعہ فوت ہی ہو چکے ہیں۔اس سے یوں استدلال ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کے استدلال کو اس طرح تو ڑا ہے کہ آپ ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔اگر حضرت عمر یا کسی اور صحابی کے ذہن میں بھی یہ بات ہوتی کہ حضرت عیسی زندہ بجسدہ العصری ہیں تو وہ آگے سے فوراً کہہ دیتا ہے کہ اجی عیسی بھی تو رسول ہی تھے وہ پھر کیوں زندہ ہیں، لیکن کسی کا ایسا نہ کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کے وہم میں بھی حیات عیسی کا عقیدہ نہ تھا بلکہ وہ سب کو وفات یا فتہ تسلیم کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سر تسلیم خم کیا اور بالکل چون و چرا نہ کی۔اس اجماع سے ان روایات کی بھی حقیقت کھل جاتی ہے جو بعض صحابہ کرام کی طرف حیات عیسی کے بارے میں منسوب کی جاتی ہیں۔کیونکہ اگر کوئی ایسی روایت ہو تو اس کی دوصورتیں ہیں (۱) یا تو وہ اس سے پہلے کی ہے (۲) یا بعد کی صورت اول میں وہ قابل استناد نہیں، کیونکہ اجماع سے وہ گر جائے گی اور صورت ثانی میں بہر حال قابلِ رڈ۔اعتراض:۔اگر الرُّسُل کا الف لام استغراقی مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ آنحضرت سے پہلے ہی تمام رسول فوت ہو جائیں کیونکہ من قبلہ بوجہ مقدم ہونے کے الرُّسُل کی صفت نہیں بن سکتی۔ہاں خَلَتُ