مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 248 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 248

248 محمدیہ پاکٹ بک کی پیش کردہ دوسری آیت قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا أُمَرٌّ (الرعد: ۳۱) میں ہلاک شدہ قو میں ہی مراد ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ رعد میں فرمایا: أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمٍ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُوْدَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللهُ جَاءَ تُهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ (ابراهيم: ١٠) یعنی کیا تمہیں ان قوموں کی خبر نہیں ملی جو تم سے پہلے تھیں یعنی قوم نوح، عاد ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے جن کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا ان کے پاس رسول آئے تو انہوں نے ان کا انکار کیا۔انہی اقوام کی تباہی اور ہلاکت کی تفصیل سورۃ ہود اور دوسری سورتوں میں متعدد مقامات پر قرآن مجید میں دی گئی ہے۔پس تمہاری پیش کردہ سورۃ رعد والی آیت میں بھی خلت کے معنے ہلاک شدہ ہی کے ہیں نہ کچھ اور۔خلا کے معنی از روئے قرآن کریم رَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ خَلَا کے اندر داخل نہیں فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کا خلا کسی کا نہیں ہوتا۔اگر کوئی کہے کہ چونکہ آنحضرت نے آسمان پر نہ جانا تھا اس لیے وہ ذکر نہ کیا گیا۔تو ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت نے تو قتل بھی نہ ہونا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا تھا وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۲۸) پھر قتل کا ذکر کیوں کیا۔معلوم ہوا کہ رَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ۔خَلا میں شامل نہیں۔دوم :۔بہت جگہ یہ لفظ قرآن کریم میں موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، ملاحظہ ہو: ا - تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَا أُمَم م في أمر قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ ه وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي ٢ - فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ دو (۲) مرتبه (البقرة: ۱۴۲،۱۳۵) (المائدة: ۷۶) (الرعد: ۳۱) (حم السجدة: ٢٦) (الاحقاف : ۱۸) (الاحقاف : ١٩) وَقَدْ خَلَتِ النُّذَرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِةٍ (الاحقاف: ۲۲) الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ وَ مَثَلاً مِنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ (یونس : ۱۰۳) (النور: ۳۵)