مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 214
214 کتاب النکاح باب اعلان النکاح - ترندی کتاب النکاح باب ما جاء فى نكاح المتعة ) اس کے بعد ابد تک حرام ہو گیا۔( ابو داؤد کتاب النکاح باب في نكاح المتعة - وابن ماجہ کتاب النکاح باب انھی عن نكاح المتعة ) اس لئے پہلی حرمت کے قبل کے واقعات یا تین دن کے واقعات حجت نہیں ہو سکتے ورنہ شراب پینا بھی اس دلیل سے جائز ہوگا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ابن عباس یا ابن مسعود یا بعض اور اصحاب اخیر تک حلت متعہ کے قائل تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کے دو گروہ ہیں ایک حرمت کا قائل اور ایک حلت کا قائل۔چونکہ حرمت کا قائل گروہ بغیر آنحضرت سے حرمت کے سننے کے ایک حلت کو حرمت میں تبدیل نہیں کر سکتا اور حلت کا قائل گروہ حرمت کے فتویٰ کے نہ پہنچنے کی وجہ سے حلت کا اظہار کر سکتا ہے اس لئے حرمت کے گروہ کو حلت کے گروہ پر ترجیح دی جاوے گی اور وہ احادیث جن میں لکھا۔کہ آنحضرت کے عہد میں متعہ تھا مگر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کر دیا۔وہاں متعہ الحج مراد ہے ھا ہے نہ کہ سعد النساء - اور حضرت عمرؓ کا یہ کہنا کہ مُتَّعَتَان كَانَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أُحُرِّمُهُمَا ( مسند احمد بن حنبل جلد اصفحه ۵۲، جلد ۳ - صفحه ۳۲۵) یہاں پر حرام سے مراد اعلان اور اظہار حرمت ہے جیسا کہ حدیث أَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّ مَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ (ابو داؤد کتاب المناسک باب فضل مكه و مدينة - فردوس الاخبار جلد۲ صفحه ۱۲ نیا ایڈیشن ) میں ہے یعنی مستعہ الج اور متعہ النساء کو جو آنحضرت کے زمانہ میں ایک وقت تک ہوتے تھے مگر بعد میں وہ حرام ہو گئے اور کئی لوگوں کو اس کی حرمت معلوم نہ ہوئی اس لئے میں لوگوں پر ان دونوں کی حرمت ظاہر کرتا ہوں اور وہ احادیث جن میں جنگ اوطاس کے تین دن کے متعہ کا ذکر ہے۔(مشکوۃ کتاب النکاح باب اعلان النکاح۔پہلی فصل ) شیعوں کی کتب میں اس کے پہلے ٹکڑے دیئے گئے ہیں حالانکہ پوری حدیثیں یوں ہیں کہ تین دن کے بعد متعہ حرام قرار دیا گیا ہے فَهُوَ الْحَرامُ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (فردوس الاخبار نیا ایڈیشن جلد اصفحہ ۹۷ روایت نمبر ۱۹۴ راوی سبرة الجھنی) اور یہ کہنا کہ اہل بیت کا اتفاق ہے کہ متعہ حلال ہے صحیح نہیں کیونکہ بارہ اماموں میں سے پہلے امام یعنی حضرت علی کی حدیث بخاری شریف میں موجود ہے کہ متعہ حرام ہے نیز حدیث میں ہے کہ خود آنحضرت نے خدا تعالیٰ کے خاص حکم سے متعہ کو حرام قرار دیا۔ملاحظہ ہو:۔إِنِّي كُنتُ اَحْلَلْتُ الْمُتْعَةَ وَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَا حَرَامٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيمَةِ (فردوس الاخبار دیلمی جلد اباب الالف ذكر الاخبار جاءت عن النبی فی مناقبه ) کہ آنحضرت نے