مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 148 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 148

148 صلاحیت نہیں اور نہ سننا چاہتے ہیں۔“ ۳۔( ترجمۃ القرآن از مولوی حافظ نذیر احمد صاحب مرحوم صفحه ۴ ۴۹ تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی ) و تلخیص المفتاح صفحه ۲ مطبع مجتبائی دہلی میں جو عربی بلاغت کی کتاب ہے لکھا ہے: أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ ضَالَّا فَهَدَيْنَاهُ (۲۰) یعنی وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گمراہ تھا ہم نے اسے ہدایت دی۔پس ثابت ہوا کہ بلغاء کے نزدیک احیائے موتی کے معنے گمراہوں کو ہدایت دینا ہے اور یہی کام خدا کے انبیاء علیہم السلام کا ہے۔۔انجیل میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوا ہے:۔الف۔اور اس (یسوع) نے تمہیں بھی زندہ کیا ہے جب اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبب مردہ تھے۔“ (افسیوں ۲/۱) ” جب قصوروں کے سبب مردہ ہی تھے تو ہم کو سیح کے ساتھ زندہ کیا۔“ (افسیوں ۲/۵) ج۔پولوس رسول کہتا ہے:۔”اے میرے بھائیو! مجھے اس فخر کی قسم جو ہمارے خد واوند یسوع مسیح میں تم پر ہے۔میں ہر روز مرتا ہوں۔“ (اکرنتھیوں ۱۵/۳۱) ہاں ہم مانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے بارہ مردے زندہ کئے۔یہوداہ اسکر یوطی وغیرہ۔مگران کی زندگی کیسی تھی ؟ اس کے لئے جس کو ضرورت ہو وہ انجیل کا مطالعہ کرے مگر ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے مردہ زندہ کئے جن پر پھر موت نہیں آئی۔ابوبکر و عمر وعثمان و علی رضی اللہ عنہم وہ مردے تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کیا اور ایک وہ بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت، فرمانبرداری کے طفیل نبوت کے مقام پر سرفراز کیا گیا۔دلیل نمبرے صفت خلق حقیقی بھی خاصہ رب العالمین ہے اور یہ وصف بھی صرف حضرت مسیح میں پایا جاتا تھا۔الجواب۔یہ بالکل درست ہے کہ صفت خلق حقیقی خاصہ رب العالمین ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں صفت خالقیت نہ تھی۔خدا کے انبیاء ایسے وقت میں آتے ہیں جبکہ لوگ زمین کی طرف جھک چکے ہوتے ہیں اور دنیا ہی دنیا ان کی نظروں میں ہوتی ہے۔انبیاء کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جوز مینی مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے ہوتے ہیں بلندی کی طرف رفعت و منزلت کی طرف پرواز