مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 69
69 وو سناتن دھرم حضرت کرشن علیہ السلام کی آمد کی نشانیاں (۱) شری کرشن جی خود فرماتے ہیں کہ:۔” ہے بھارت ! جب دھرم کی نیستی اور ادھرم کا دور دورہ ہو جاتا ہے تب میں اوتار لیتا ہوں۔“ (۲) پھر فرماتے ہیں: کہ نیک لوگوں کی حفاظت اور بدوں کو نیست و نابود کرنے اور صراط مستقیم یعنی دین خدا کو قائم کرنے کے لئے ہر ایک ٹیگ پر میرا اوتار ہوتا ہے۔“ ( گیتا ادھیائ ۴ شلوک ۸،۷) (۳) شری و یاس جی پہلی نشانی مہا بھارت کے مصنف مقدس رشی بیان فرماتے ہیں کہ کلجگ کے دورے میں اندھا دھند ادھرمی ( بیدینی) کی علمداری رہتی ہے۔جھوٹ، فریب، ہتیا (ایذاء رسانی) غصہ، لالچ کا دور دورہ ہوتا ہے۔انسان کو خراب افعال سے رغبت اور نیک اعمال سے نفرت ہو جاتی ہے۔جپ تپ ( عبادت ، ریاضت، پوجا پاٹ ، برت، ہوں ایسے ایسے تمام نیک کام براہمن تک چھوڑ دیتے ہیں اوروں کا کیا ذکر۔خوردنی اور نا خوردنی چیزوں کا امتیاز نہیں رہتا۔چھوت چھات کو واہیات سمجھتے ہیں۔کھشتریوں کو رعیت پروری سے منظر ہوتا ہے۔جرات اور بہادری کھو بیٹھتے ہیں۔سنتوں کی خدمت گزاری سے کچھ کام نہیں رہتا۔دولت ہی کی فکر میں اندھے رہتے ہیں۔غلہ بے مزہ۔پھل بے ذائقہ ہو جاتے ہیں۔کم عمر صاحب اولاد ہو جاتی ہیں۔آٹھ برس کی عمر میں حمل ٹھہر جاتا ہے۔درختوں کی بارآوری کم ہو جاتی ہے۔گائیوں کا دودھ گھٹ جاتا ہے۔اوقات مناسب پر پانی نہیں برستا۔امساک کے بارہ سے قحط عالمگیر ہوتے ہیں۔ناخن اور بال بڑھا کر لوگ مہاتما بن جاتے ہیں۔برہمچاری مال خوب مارتے ہیں۔عورتوں کا چلن بگڑ جاتا ہے۔خاوندوں کے ہوتے ہوئے نوکروں سے ملتفت ہوتی ہیں۔مرد حسین بی بی سے محبت نہیں کرتے۔زنانے بازاری کو گلے کا ہار بناتے ہیں۔شراب خانے آباد رہتے ہیں۔عبادت خانے سنسان۔جہاں پہلے دھرم تھے وہاں بدفعلیاں اور بدعملیوں کی گرم بازاری رہتی ہے۔“ (مہا بھارت بن پرب صفحه ۶۸۶،۸۹، ۶۸۷) (۴) جس وقت کلجگ آ گیا سمجھ لیجئے کہ دنیا کی ہوا پلٹ گئی۔وہ وہ پاپ، وہ وہ گناہ ہوں گے کہ زمین کانپ اٹھے گی۔لڑکے والدین کو بیوقوف سمجھیں گے۔رضا جوئی فرمانبرداری کیسی؟