مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 68
68 جیسا کہ آپ نے سراج منیر صفحہ ۲۱ پر مفصل لکھا ہے۔۴۔معیار چہارم :۔سانپ ہمفتری ، ڈشٹ۔دوسرے آدمیوں کا مال پچرانے والے کبھی دنیا میں کامیاب نہیں ہوئے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ مفتری اور ڈشٹ کبھی دنیا میں بامراد اور کامیاب نہیں ہوتے بلکہ وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ان کا نام ونشان مٹ جاتا ہے۔اگر حضرت مرزا صاحب نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں بچے نہ ہوتے تو یقینا آپ کبھی کامیاب نہ ہوتے۔پانچواں معیار: دھرم ایو تومنی دھر مور کھشی رکھشا۔منو دھرم ادھرمی کو ماردیتا ہے اور دھرمی کی رکھشا کرتا ہے۔یعنی جو آدمی دھرم پر ہوتا ہے وہ تباہ و برباد نہیں کیا جا تا بلکہ اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔جیسا کہ حضرت اقدس علیہ السلام اگر دھرم پر قائم نہ ہوتے تو اس اصول کے مطابق یقیناً مٹا دیئے جاتے اور ادھرم ان کا سارا کام تباہ کر دیتا لیکن انہوں نے ترقی کی۔بخلاف لیکھرام کے کہ وہ چونکہ دھرم پر قائم نہ تھا اس لئے ادھرم نے اس کو نا کام کر کے مٹادیا اور اس کی مدد نہ کی۔چھٹا معیار:۔آپ کی پیشگوئیوں کا پورا ہونا لیکھرام کے قتل کی پیشگوئی۔دیانند کی موت کی پیشگوئی ، آریہ سماج کی موت کی پیشگوئی۔دلیپ سنگھ کی پیشینگوئی تقسیم بنگال۔وغیرہ۔آریہ سماج کی موت کے متعلق اخبارات میں بہت سے مضامین نکلتے ہیں۔وہاں دیکھ لیں۔