فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 77

مسیح ہندوستان میں 77 فلسطین سے کشمیر تک جھوٹ جائز نہیں۔مسیح نے اپنی قبر میں رہنے کے تین دن کو یونس کے تین دنوں سے مشابہت دی ہے۔اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ یونس تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا ایسا ہی مسیح بھی تین دن قبر میں زندہ رہا اور یہودیوں میں اس وقت کی قبریں اس زمانہ کی قبروں کے مشابہ نہ تھیں بلکہ وہ ایک کو ٹھے کی طرح اندر سے بہت فراخ ہوتی تھیں اور ایک طرف کھڑ کی ہوتی تھی جس کو ایک بڑے پتھر سے ڈھانکا ہوا ہوتا تھا۔اور عنقریب ہم اپنے موقعہ پر ثابت کریں گے کہ عیسی علیہ السلام کی قبر جو حال میں سری نگر کشمیر میں ثابت ہوئی ہے وہ بعینہ اسی طرز کی قبر ہے جیسا کہ یہ قبر تھی جس میں حضرت مسیح غشی کی حالت میں رکھے گئے۔غرض یہ آیت جس کو ابھی ہم نے لکھا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح قبر سے نکل کر گلیل کی طرف گیا۔اور مرقس کی انجیل میں لکھا ہے کہ وہ قبر سے نکل کر جلیل کی سڑک پر جاتا ہوا دکھائی دیا اور آخر ان گیاراں حواریوں کو ملا جب کہ وہ کھانا کھا رہے تھے اور اپنے ہاتھ اور پاؤں جو زخمی تھے دکھائے اور انہوں نے گمان کیا کہ شاید یہ روح ہے۔تب اس نے کہا کہ مجھے چھوؤ اور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیں جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور ان سے ایک بھوئی ہوئی مچھلی کا ٹکڑا اور شہر کا ایک چھتا لیا اور ان کے سامنے کھایا۔دیکھو مرقس باب ۱۶ آیت ۱۴۔اور لوقا باب ۲۴ آیت ۳۹ اور ۴۰ اور ۴۱ اور ۴۲۔ان آیات سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ہر گز آسمان پر نہیں گیا بلکہ قبر سے نکل کر جلیل کی طرف گیا اور معمولی جسم اور معمولی کپڑوں میں انسانوں کی طرح تھا۔اگر وہ مر کر زندہ ہوتا تو کیونکر ممکن تھا کہ جلالی جسم میں صلیب کے زخم باقی رہ جاتے اور اس کو روٹی کھانے کی کیا حاجت تھی اور اگر تھی تو پھر اب بھی روٹی کھانے کا محتاج ہوگا۔ناظرین کو اس دھو کے میں نہیں پڑنا چاہئیے کہ یہودیوں کی صلیب اس زمانہ کی پھانسی کی طرح ہوگی جس سے نجات پانا قریباً محال ہے کیونکہ اس زمانہ کی صلیب میں کوئی رسا گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا اور نہ تختہ پر سے گرا کر لٹکایا جاتا تھا بلکہ صرف صلیب پر کھینچ کر ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور یہ بات ممکن ہوتی تھی کہ اگر صلیب پر کھینچنے اور