فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 76
مسیح ہندوستان میں 76 فلسطین سے کشمیر تک نے غلطی کھائی ہے۔انجیلوں کے محقق شارحوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ انجیلوں میں دو حصے ہیں (۱) ایک دینی تعلیم ہے جو حواریوں کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ملی تھی جو اصل روح انجیل کا ہے۔(۲) اور دوسرے تاریخی واقعات ہیں جیسے حضرت عیسی کا شجرہ نسب اور ان کا پکڑا جانا اور مارا جانا اور مسیح کے وقت میں ایک معجزہ نما تالاب کا ہونا وغیرہ یہ وہ امور ہیں جو لکھنے والوں نے اپنی طرف سے لکھے تھے۔سو یہ باتیں الہامی نہیں ہیں بلکہ لکھنے والوں نے اپنے خیال کے موافق لکھی ہیں اور بعض جگہ مبالغہ بھی حد سے زیادہ کیا ہے۔جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ جس قد ر مسیح نے کام کئے یعنی معجزات دکھلائے اگر وہ کتابوں میں لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔یہ کس قدر مبالغہ ہے۔ماسوا اس کے ایسے بڑے صدمہ کو جو مسیح پر وارد ہوا تھا موت کے ساتھ تعبیر کرنا خلاف محاورہ نہیں ہے۔ہر ایک قوم میں قریباً یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک مہلک صدمہ میں مبتلا ہوکر پھر آخریچ جائے اس کو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے زندہ ہوا اور کسی قوم اور ملک کے محاورہ میں ایسی بول چال میں کچھ بھی تکلف نہیں۔ان سب امور کے بعد ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے لائق ہے کہ برنباس کی انجیل میں جو امور بعد غالباً لندن کے کتب خانہ میں بھی ہوگی یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور نہ صلیب پر جان دی۔اب ہم اس جگہ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ گو یہ کتاب انجیلوں میں داخل نہیں کی گئی اور بغیر کسی فیصلہ کے رڈ کر دی گئی ہے مگر اس میں کیا شک ہے کہ یہ ایک پرانی کتاب ہے اور اسی زمانہ کی ہے جب کہ دوسری انجیلیں لکھی گئیں۔کیا ہمیں اختیار نہیں ہے کہ اس پرانی اور دیرینہ کتاب کو عہد قدیم کی ایک تاریخی کتاب سمجھ لیں اور تاریخی کتابوں کے مرتبہ پر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھاویں؟ اور کیا کم سے کم اس کتاب کے پڑھنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مسیح علیہ السلام کے صلیب کے وقت تمام لوگ اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے۔پھر ماسوا اس کے جب کہ خودان چار انجیلوں میں ایسے استعارات موجود ہیں کہ ایک مردہ کو کہ دیا ہے کہ یہ سوتا ہے مرا نہیں تو اس حالت میں اگر غشی کی حالت میں مردہ کا لفظ بولا گیا تو کیا یہ بعید ہے۔ہم لکھ چکے ہیں کہ نبی کے کلام میں