فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 75

مسیح ہندوستان میں 75 فلسطین سے کشمیر تک مخالف ہے جو انہوں نے جابجا انجیل میں ظاہر کیا ہے۔انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں۔میں ہادی ہوں۔اور میں خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں۔اور میں نے اُس سے پاک پیدائش پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں۔پھر باوجود ان غیر منفک اور پاک تعلقات کے لعنت کا ناپاک مفہوم کیونکر مسیح کے دل پر صادق آ سکتا ہے۔ہر گز نہیں پس بلا شبہ یہ بات ثابت ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنی صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اس کی ذات صلیب کے نتیجہ سے پاک ہے۔اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کی ناپاک کیفیت سے بیشک اس کے دل کو بچایا گیا۔اور بلاشبہ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ وہ آسمان پر ہر گز نہیں گیا کیونکہ آسمان پر جانا اس منصوبہ کی ایک جز تھی اور مصلوب ہونے کی ایک فرع تھی۔پس جبکہ ثابت ہوا کہ وہ نہ لعنتی ہوا اور نہ تین دن کے لئے دوزخ میں گیا اور نہ مرا تو پھر یہ دوسری جز آسمان پر جانے کی بھی باطل ثابت ہوئی اور اس پر اور بھی دلائل ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ قول ہے جو مسیح کے منہ سے نکلا لیکن میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا دیکھو متی باب ۲۶ آیت ۳۲۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح قبر سے نکلنے کے بعد جلیل کی طرف گیا تھا نہ آسمان کی طرف۔اور مسیح کا یہ کلمہ کہ اپنے جی اٹھنے کے بعد اس سے مرنے کے بعد جینا مراد نہیں ہوسکتا۔بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مر چکا تھا اس لئے مسیح نے پہلے سے اُن کے آئندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا۔اور در حقیقت جس شخص کو صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھو کے گئے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف سے غشی میں ہوکر مردہ کی سی حالت میں ہو گیا۔اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پا کر پھر ہوش کی حالت میں آ جائے تو اس کا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ میں پھر زندہ ہو گیا اور بلا شبہ اس صدمہ عظیمہ کے بعد مسیح کا بچ جانا ایک معجزہ تھا معمولی بات نہیں تھی۔لیکن یہ درست نہیں ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ مسیح کی جان نکل گئی تھی۔سچ ہے کہ انجیلوں میں ایسے لفظ موجود ہیں لیکن یہ اسی قسم کی انجیل نویسوں کی غلطی ہے جیسا کہ اور بہت سے تاریخی واقعات کے لکھنے میں انہوں