فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 70

مسیح ہندوستان میں 70 فلسطین سے کشمیر تک کروں۔اور اسلام میں اخلاقی حالتوں کو دوبارہ قائم کر دوں۔اور مجھے اس نے حق کے طالبوں کی تسلی پانے کے لئے آسمانی نشان بھی عطا فرمائے ہیں اور میری تائید میں اپنے عجیب کام دکھلائے ہیں اور غیب کی باتیں اور آئندہ کے بھید جو خدائے تعالیٰ کی پاک کتابوں کی رو سے صادق کی شناخت کے لئے اصل معیار ہے میرے پر کھولے ہیں اور پاک معارف اور علوم مجھے عطا فرمائے ہیں اس لئے ان روحوں نے مجھ سے دشمنی کی جو سچائی کو نہیں چاہتیں اور تاریکی سے خوش ہیں۔مگر میں نے چاہا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے نوع انسان کی ہمدردی کروں۔سو اس زمانہ میں عیسائیوں کے ساتھ بڑی ہمدردی یہ ہے کہ ان کو اس سچے خدا کی طرف توجہ دی جائے جو پیدا ہونے اور مرنے اور درد دکھ وغیرہ نقصانوں سے پاک ہے۔وہ خدا جس نے تمام ابتدائی اجسام و اجرام کو کروی شکل پر پیدا کر کے اپنے قانون قدرت میں یہ ہدایت منقوش کی کہ اس کی ذات میں کرویت کی طرح وحدت اور یک جہتی ہے اس لئے بسیط چیزوں میں سے کوئی چیز سہ گوشہ پیدا نہیں کی گئی یعنی جو کچھ خدا کے ہاتھ سے پہلے پہلے نکلا جیسے زمین ، آسمان، سورج، چاند اور تمام ستارے اور عناصر وہ سب کر دی ہیں جن کی کرویت توحید کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔سو عیسائیوں سے سچی ہمدردی اور سچی محبت اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کہ اس خدا کی طرف ان کو رہبری کی جائے جس کے ہاتھ کی چیزیں اس کو تثلیث سے پاک ٹھہراتی ہیں۔اور مسلمانوں کے ساتھ بڑی ہمدردی یہ ہے کہ ان کی اخلاقی حالتوں کو درست کیا جائے اور ان کی ان جھوٹی امیدوں کو کہ ایک خونی مہدی اور مسیح کا ظاہر ہونا اپنے دلوں میں جمائے بیٹھے ہیں جو اسلامی ہدایتوں کی سراسر مخالف ہیں زائل کیا جائے۔اور میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ حال کے بعض علماء کے یہ خیالات کہ مہدی خونی آئے گا اور تلوار سے اسلام کو پھیلائے گا یہ تمام خیالات قرآنی تعلیم کے مخالف اور صرف نفسانی آرزوئیں ہیں اور ایک نیک اور حق پسند مسلمان کے لئے ان خیالات سے باز آجانے کے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کہ قرآنی ہدایتوں کو غور سے پڑھے اور ذرہ ٹھہر کر اور فکر اور سوچ سے کام لے کر نظر کرے کہ کیونکر خدائے تعالیٰ کا پاک کلام اس بات کا مخالف ہے کہ کسی کو دین میں داخل کرنے کے لئے قتل کی دھمکی دی جائے۔غرض یہی ایک دلیل ایسے عقیدوں کے باطل