فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 69
مسیح ہندوستان میں 69 فلسطین سے کشمیر تک ہونے پر قتل کرتے تھے۔پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔یہ بات ایسی نہ تھی کہ سمجھ نہ آسکتی یا اس کے سمجھنے میں کچھ مشکلات ہوتیں۔لیکن نادان لوگوں کو نفسانی طمع نے اس عقیدہ کی طرف جھکایا ہے کیونکہ ہمارے اکثر مولویوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ مہدی کی لڑائیوں کے ذریعہ سے بہت سا مال ان کو ملے گا یہاں تک کہ وہ سنبھال نہیں سکیں گے اور چونکہ آج کل اس ملک کے اکثر مولوی بہت تنگ دست ہیں اس وجہ سے بھی وہ ایسے مہدی کے دن رات منتظر ہیں کہ تا شاید اسی ذریعہ سے ان کی نفسانی حاجتیں پوری ہوں لہذا جو شخص ایسے مہدی کے آنے سے انکار کرے یہ لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اور اس کو فی الفور کا فرٹھہرایا جاتا اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ میں بھی انہی وجوہ سے ان لوگوں کی نظر میں کافر ہوں کیونکہ ایسے خونی مہدی اور خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں ہوں بلکہ ان بیہودہ عقیدوں کو سخت کراہت اور نفرت سے دیکھتا ہوں اور میرے کافر کہنے کی صرف یہی وجہ نہیں کہ میں نے ایسے فرضی مہدی اور فرضی مسیح کے آنے سے انکار کر دیا ہے جس پر ان کا اعتقاد ہے بلکہ ایک یہ بھی وجہ ہے کہ میں نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اس بات کا عام طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حقیقی اور واقعی مسیح موعود جو وہی درحقیقت مہدی بھی ہے جس کے آنے کی بشارت انجیل اور قرآن میں پائی جاتی ہے اور احادیث میں بھی اس کے آنے کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ میں ہی ہوں مگر بغیر تلواروں اور بندوقوں کے۔اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ نرمی اور آہستگی اور حلم اور غربت کے ساتھ اس خدا کی طرف لوگوں کو توجہ دلاؤں جو سچا خدا اور قدیم اور غیر متغیر ہے اور کامل تقدس اور کامل علم اور کامل رحم اور کامل انصاف رکھتا ہے۔اس تاریکی کے زمانہ کا نور میں ہی ہوں۔جوشخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں۔مجھے اس نے بھیجا ہے کہ تا میں امن اور حلم کے ساتھ دنیا کو سچے خدا کی طرف رہبری