فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 67

مسیح ہندوستان میں 67 فلسطین سے کشمیر تک بڑھ گئی اور کئی بے گناہوں کے قتل کرنے کے جرم نے بھی ان کو سزا کے لائق بنایا تب ان کے ساتھ لڑنے کے لئے بطور مدافعت اور حفاظت خود اختیاری اجازت دی گئی اور نیز وہ لوگ بہت سے بے گناہ مقتولوں کے عوض میں جن کو انہوں نے بغیر کسی معرکہ جنگ کے محض شرارت سے قتل کیا تھا اور ان کے مالوں پر قبضہ کیا تھا اس لائق ہو گئے تھے کہ اسی طرح ان کے ساتھ اور ان کے معاونوں کے ساتھ معاملہ کیا جاتا۔مگر مکہ کی فتح کے وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو بخش دیا لہذا یہ خیال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کبھی دین پھیلانے کے لئے لڑائی کی تھی یا کسی کو برا اسلام میں داخل کیا تھا سخت غلطی اور ظلم ہے۔یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ اس زمانہ میں ہر ایک قوم کا اسلام کے ساتھ تعصب بڑھا ہوا تھا اور مخالف لوگ اس کو ایک فرقہ جدیدہ اور جماعت قلیلہ سمجھ کر اس کے نیست و نابود کرنے کی تدبیروں میں لگے ہوئے تھے اور ہر ایک اس فکر میں تھا کہ کسی طرح یہ لوگ جلد نابود ہو جا ئیں اور یا ایسے منتشر ہوں کہ ان کی ترقی کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے اس وجہ سے بات بات میں ان کی طرف سے مزاحمت تھی اور ہر ایک قوم میں سے جو شخص مسلمان ہو جا تا تھا وہ قوم کے ہاتھ سے یا تو فی الفور مارا جاتا اور یا اس کی زندگی سخت خطرہ میں رہتی تھی تو ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے نومسلم لوگوں پر رحم کر کے ایسی متعصب طاقتوں پر یہ تعزیر لگا دی تھی کہ وہ اسلام کے خراج دہ ہو جائیں اور اس طرح اسلام کے لئے آزادی کے دروازے کھول دیں اور اس سے مطلب یہ تھا کہ تا ایمان لانے والوں کی راہ سے روکیں دور ہو جائیں اور یہ دنیا پر خدا کا رحم تھا اور اس میں کسی کا حرج نہ تھا۔مگر ظاہر ہے کہ اس وقت کے غیر قوم کے بادشاہ اسلام کی مذہبی آزادی کو نہیں روکتے ، اسلامی فرائض کو بند نہیں کرتے اور اپنی قوم کے مسلمان ہونے والوں کو قتل نہیں کرتے ، ان کو قید خانوں میں نہیں ڈالتے ان کو طرح طرح کے دکھ نہیں دیتے تو پھر کیوں اسلام ان کے مقابل پر تلوار اٹھاوے۔اور یہ ظاہر ہے کہ اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔اگر قرآن شریف اور تمام حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے اور جہاں تک انسان