فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 66
مسیح ہندوستان میں 66 فلسطین سے کشمیر تک اس کے ساتھ شامل ہونے کے لئے دروازے پر کھڑے ہیں۔غرض ایسے اعتقادات سے اس قسم کے مولویوں کی اخلاقی حالت میں بہت کچھ تنزل پیدا ہو گیا ہے اور وہ اس لائق نہیں رہے کہ نرمی اور صلح کاری کی تعلیم دے سکیں بلکہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو خواہ نخواہ قتل کرنا دینداری کا ایک بڑا فرض سمجھا گیا ہے۔ہم اس سے بہت خوش ہیں کہ کوئی فرقہ اہلِ حدیث میں سے ان غلط عقیدوں کا مخالف ہو۔لیکن ہم اس بات کو افسوس کے ساتھ بیان کرنے سے رک نہیں سکتے کہ اہل حدیث کے فرقوں میں سے وہ چھپے وہابی بھی ہیں جو خونی مہدی اور جہاد کے مسائل کو مانتے ہیں اور طریق صحیح کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور کسی موقع کے وقت میں دوسرے مذاہب کے تمام لوگوں کو قتل کر دینا بڑے ثواب کا طریق خیال کرتے ہیں۔حالانکہ یہ عقائد یعنی اسلام کے لئے قتل یا ایسی پیشگوئیوں پر عقیدہ رکھنا کہ گویا کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آئے گا اور خونریزی اور خونریزی کی دھمکیوں سے اسلام کو ترقی دینا چاہے گا قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے بالکل مخالف ہیں۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں اور پھر بعد اس کے بھی کفار کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا اور بالخصوص مکہ کے تیرہ برس اس مصیبت اور طرح طرح کے ظلم اٹھانے میں گذرے کہ جس کے تصور سے بھی رونا آتا ہے لیکن آپ نے اس وقت تک دشمنوں کے مقابل پر تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے سخت کلمات کا سخت جواب دیا جب تک کہ بہت سے صحابہ اور آپ کے عزیز دوست بڑی بے رحمی سے قتل کئے گئے اور طرح طرح سے آپ کو بھی جسمانی دکھ دیا گیا اور کئی دفعہ زہر بھی دی گئی۔اور کئی قسم کی تجویز میں قتل کرنے کی کی گئیں جن میں مخالفوں کو ناکامی رہی جب خدا کے انتقام کا وقت آیا تو ایسا ہوا کہ مکہ کے تمام رئیسوں اور قوم کے سر بر آوردہ لوگوں نے اتفاق کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہر حال اس شخص کو قتل کر دینا چاہیئے۔اس وقت خدا نے جو اپنے پیاروں اور صدیقوں اور راستبازوں کا حامی ہوتا ہے آپ کو خبر دے دی کہ اس شہر میں اب بجز بدی کے کچھ نہیں اور قتل پر کمر بستہ ہیں یہاں سے جلد بھاگ جاؤ تب آپ بحکم الہی مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔مگر پھر بھی مخالفوں نے پیچھا نہ چھوڑا بلکہ تعاقب کیا۔اور بہر حال اسلام کو پامال کرنا چاہا۔جب اس حد تک ان لوگوں کی شورہ پشتی