فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 65

مسیح ہندوستان میں 65 فلسطین سے کشمیر تک اس کی سچائی اور اس کی پاک تعلیم اور اس کی خوبیوں سے ہنوز ناواقف اور بے خبر ہے تو کیا ایسے شخص کے ساتھ یہ برتاؤ مناسب ہے کہ بلا توقف اس کو قتل کر دیا جائے بلکہ ایسا شخص قابلِ رحم ہے اور اس لائق ہے کہ نرمی اور خلق سے اُس مذہب کی سچائی اور خوبی اور روحانی منفعت اُس پر ظاہر کی جائے نہ یہ کہ اس کے انکار کا تلوار یا بندوق سے جواب دیا جائے۔لہذا اس زمانہ کے ان اسلامی فرقوں کا مسئلہ جہاد اور پھر اس کے ساتھ یہ تعلیم کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک خونی مہدی پیدا ہوگا جس کا نام امام محمد ہوگا اور مسیح اس کی مدد کے لئے آسمان سے اترے گا اور وہ دونوں مل کر دنیا کی تمام غیر قوموں کو اسلام کے انکار پر قتل کر دیں گے۔نہایت درجہ اخلاقی مسئلہ کے مخالف ہے۔کیا یہ وہ عقیدہ نہیں ہے کہ جوانسانیت کے تمام پاک قومی کو معطل کرتا اور درندوں کی طرح جذبات پیدا کر دیتا ہے اور ایسے عقائد والوں کو ہر ایک قوم سے منافقانہ زندگی بسر کرنی پڑتی ہے یہاں تک کہ غیر قوم کے حکام کے ساتھ بھی کچی اطاعت کے ساتھ پیش آنا محال ہو جاتا ہے بلکہ دروغ گوئی کے ذریعہ سے ایک جھوٹی اطاعت کا اظہار کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس ملک برٹش انڈیا میں اہلِ حدیث کے بعض فرقے جن کی طرف ہم ابھی اشارہ کر آئے ہیں گورنمنٹ انگریزی کے ماتحت دو رویہ طرز کی زندگی بسر کر رہے ہیں یعنی پوشیدہ طور پر عوام کو وہی ☆ خونریزی کے زمانہ کی امیدیں دیتے ہیں اور خونی مہدی اور خونی مسیح کے انتظار میں ہیں اور اسی کے مطابق مسئلے سکھاتے ہیں اور پھر جب حکام کے سامنے جاتے ہیں تو ان کی خوشامد میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایسے عقیدوں کے مخالف ہیں۔لیکن اگر سچ سچ مخالف ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ اپنی تحریرات کے ذریعہ سے اس کی عام اشاعت نہیں کرتے اور کیا وجہ کہ وہ آنے والے خونی مہدی اور مسیح کی ایسے طور سے انتظار کر رہے ہیں کہ گویا اہلِ حدیث میں سے بعض بڑی گستاخی اور نہ حق شناسی سے اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ عنقریب مہدی پیدا ہونے والا ہے اور وہ ہندوستان کے بادشاہ انگریزوں کو اپنا اسیر بنائے گا اور اس وقت عیسائی بادشاہ گرفتار ہوکر اس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔یہ کتابیں اب تک ان اہلِ حدیث کے گھروں میں موجود ہیں۔منجملہ ان کے کتاب اقتراب الساعۃ ایک بڑے مشہور اہلِ حدیث کی تصنیف ہے جس کے صفحہ ۶۴ میں یہی قصہ لکھا ہے۔منہ