فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 55
ایام الصلح 55 فلسطین سے کشمیر تک میں ہیں اور شیخ الرئیس بوعلی سینا نے بھی اس نسخہ کو اپنے قانون میں لکھا ہے۔چنانچہ میرے کتب خانہ میں شیخ بوعلی سینا کے قانون کا ایک قلمی نسخہ موجود ہے جو پانسو ۵۰۰ برس کا لکھا ہوا ہے اس میں بھی یہ نسخہ مع وجہ تسمیہ موجود ہے۔ان تمام کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم عیسی اس وقت تیار کی گئی تھی کہ جب نالائق یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے صلیب پر چڑھا دیا تھا اور اُن کے پیر وں اور ہاتھوں میں لوہے کے کیل ٹھونک دیئے تھے لیکن خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ ان کو صلیبی موت سے بچاوے۔اس لئے خدائے عز وجل نے اپنے فضل و کرم سے ایسے اسباب جمع کر دیئے جن کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی جان بچ گئی۔منجملہ ان کے ایک یہ سبب تھا کہ آنجناب جمعہ کو قریب عصر کے صلیب پر چڑھائے گئے اور صلیب پر چڑھانے سے پہلے اُسی رات پیلاطوس کی بیوی نے جو اس ملک کا بادشاہ تھا ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر یہ شخص جو یسوع کہلاتا ہے قتل کیا گیا تو تم پر تباہی آئے گی۔اُس نے یہ خواب اپنے خاوند یعنی پیلاطوس کو بتلایا اور چونکہ دنیا دار لوگ اکثر وہمی اور بُز دل ہوتے ہیں۔اس لئے پیلاطوس خاوند اُس کا اس خواب کوسُن کر بہت ہی گھبرایا اور اندر ہی اندر اس فکر میں لگ گیا کہ کسی طرح یسوع کو قتل سے بچا لیا جائے۔سو اس دلی منصوبہ کے انجام کے لئے پہلا داؤ جو اُس نے یہودیوں کے ساتھ کھیلا وہ یہی تھا کہ یہ تدبیر کی کہ یسوع کو جمعہ کے روز عصر کے وقت صلیب دی جائے۔اور اُسے معلوم تھا کہ یہودی صرف اسے صلیب دینا چاہتے ہیں کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کے رُو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ قتل کیا جائے خدا کی لعنت اُس پر پڑ جاتی ہے اور پھر خدا کی طرف اُس کا رفع نہیں ہوتا۔اور بعد اس کے یہ امر ممکن ہی نہیں ہوتا کہ خدا اس سے محبت کرے اور یا وہ خدا کی نظر میں ایمانداروں اور راستبازوں میں شمار کیا جائے۔لہذا یہودیوں کی یہ خواہش تھی کہ یسوع کو صلیب دے کر پھر توریت کے رو سے اس بات کا اعلان دے دیں کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو ہر گز مصلوب نہ ہو سکتا اور اس طرح پر مسیح کی جماعت کو متفرق کر دیں یا جو لوگ اندر ہی اندر کچھ نیک ظن رکھتے تھے اُن کی طبیعتوں کو خراب کر دیں۔اور