فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 30
راز حقیقت 30 فلسطین سے کشمیر تک۔گری۔پس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔انہی قدرتوں سے وہ پہنچانا گیا ہے۔دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمُ * یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے بچ کر نکل گیا۔اور اگر انجیل کو غور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔کیا مسیح کی تمام رات کی دردمندانہ دعارد ہوسکتی تھی۔کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں رہوں گا اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرار ہا تھا۔کیا پیلاطوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشا نہیں معلوم ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچالے۔ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتارے جانا اور رسم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑے جانا اور خون کا نکلنا کیا یہ تمام وہ امور نہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دُعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔بھلا مقبول کی ایسی دُعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی۔پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔اور اگر یہ بھی نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکارو کہ تمہیں آکر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے۔کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آ گئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے اُن میں کئی بادشاہ بھی ہوئے۔اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ توریت میں وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل نبی موعود کے پیرو ہو کر حکومت اور سلطنت پائیں گے۔غرض مسیح ابن مریم کو صلیبی موت سے مارنا یہ ایک ایسا اصل ہے کہ اسی پر مذہب کے تمام اصولوں کفارہ اور تثلیث وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔اور یہی وہ خیال ہے کہ جو نصاریٰ کے چالیس کروڑ انسانوں کے النساء : 158