فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 21

ب البريه 21 فلسطین سے کشمیر تک میں کبھی نہیں ہوا کہ اس طرح پر کسی راستباز کی حمایت کے لئے فرشتہ ظاہر ہوا ہو اور پھر رؤیا میں فرشتہ کا ظاہر ہونا عبث اور لا حاصل گیا ہو اور جس کی سفارش کے لئے آیا ہو وہ ہلاک ہو گیا ہو۔غرض یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس وقت کے یہودی اپنے ارادہ میں نامراد رہے اور حضرت عیسی علیہ السلام جس کو ٹھے میں رکھے گئے تھے جو قبر کے نام سے مشہور تھا اور دراصل ایک بڑا وسیع کوٹھا تھا وہ اس سے تیسرے دن بخیر و عافیت باہر آ گئے اور شاگردوں کو ملے اور ان کو مبارک باد دی کہ میں خدا کے فضل سے دنیوی زندگی کے ساتھ بدستو ر اب تک زندہ ہوں اور پھر ان کے ہاتھ سے لے کر روٹی اور کباب کھائے اور اپنے زخم ان کو دکھلائے اور چالیس دن تک ان کے ان زخموں کا اس مرہم کے ساتھ علاج ہوتا رہا جس کو قرابادینوں میں مرہم عیسی یا مرہم رسل یا مرہم حوار تین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔یہ مرہم چوٹ وغیرہ کے زخموں کے لئے بہت مفید ہے اور قریباً طب کی ہزار کتاب میں اس مرہم کا ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے اس کو بنایا گیا تھا۔وہ پرانی طلب کی کتابیں عیسائیوں کی جو آج سے چودہ سو برس پہلے رومی زبان میں تصنیف ہو چکی تھیں ان میں اس مرہم کا ذکر ہے اور یہودیوں اور مجوسیوں کی طبابت کی کتابوں میں بھی یہ نسخہ مرہم عیسی کا لکھا گیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرہم الہامی ہے اور اس وقت جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر کسی قدر زخم پہنچے تھے انہیں دنوں میں خدا تعالیٰ نے بطور الہام یہ دوائیں ان پر ظاہر کی تھیں۔یہ مرہم پوشیدہ راز کا نہایت یقینی طور پر پتہ لگاتی ہے اور قطعی طور پر ظاہر کرتی ہے کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے تھے کیونکہ اس مرہم کا تذکرہ صرف اہل اسلام کی ہی کتابوں میں نہیں کیا گیا بلکہ قدیم سے عیسائی یہودی مجوسی اور اطباء اسلام اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کرتے آئے ہیں۔اور نیز یہ بھی لکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار کی گئی تھی۔حسن اتفاق سے یہ سب کتابیں موجود ہیں اور اکثر چھپ چکی ہیں اگر کسی کو سچائی کا پتہ لگانا اور راستی کا سراغ چلا نا منظور ہو تو ضرور ان کتابوں کا ملا حظہ کرے شاید آسمانی روشنی اس کے دل پر پڑ کر ایک بھاری بلا سے نجات پا جائے اور حقیقت کھل جائے۔اس مرہم کو ادنی ادنی