فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 20

کتاب البریہ 20 کتاب البریہ (1898ء) فلسطین سے کشمیر تک اور بداندیشوں کے حملے راستبازوں پر قدیم سے ہوتے چلے آئے ہیں۔مجھ سے پہلے یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت بھی یہی ارادہ کیا کہ ناحق مجرم ٹھہرا کر سولی دلا دیں مگر خدا کی قدرت دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنے اس مقبول کو بچالیا۔اس نے پیلاطوس کے دل میں ڈال دیا کہ یہ شخص بے گناہ ہے اور فرشتہ نے خواب میں اس کی بیوی کو ایک رُعب ناک نظارہ میں ڈرایا کہ اس شخص کے مصلوب ہونے میں تمہاری تباہی ہے۔پس وہ ڈر گئے اور اس نے اپنے خاوند کو اس بات پر مستعد کیا کہ کسی حیلہ سے میسیج کو یہودیوں کے بد ارادہ سے بچالے۔پس اگر چہ وہ بظاہر یہودیوں کے آنسو پونچھنے کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ قدیم رسم کے موافق نہ تین دن صلیب پر رکھا گیا جوکسی کے مارنے کے لئے ضروری تھا اور نہ ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ یہ کہہ کر بچالیا گیا کہ اس کی تو جان نکل گئی۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا خدا کا مقبول اور راستباز نبی جرائم پیشہ کی موت سے مر کز یعنی صلیب کے ذریعہ سے جان دے کر اس لعنت کا حصہ نہ لیوے جو روز ازل سے ان شریروں کے لئے مقرر ہے جن کے تمام علاقے خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں اور در حقیقت جیسا کہ لعنت کا مفہوم ہے وہ خدا کے دشمن اور خدا ان کا دشمن ہو جاتا ہے۔پس کیونکر وہ لعنت جس کا یہ ناپاک مفہوم ہے ایک برگزیدہ پر وارد ہو سکتی ہے؟ سو اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام صلیبی موت سے بچائے گئے۔اور جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ کشمیر میں آکر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔اور لوگ بہت تعظیم سے اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اس شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوز آسف کر کے مشہور ہے جس کے معنے ہیں کہ یسوع غم ناک۔اور جب پلا طوس کی بیوی کو فرشتہ نظر آیا اور اس نے اس کو دھمکایا کہ اگر یسوع مارا گیا تو تمہاری تباہی ہوگی یہی اشارہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بچانے کے لئے تھا۔ایسا دنیا