فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 18

ست بچن 18 فلسطین سے کشمیر تک تھا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے کیونکہ توریت سے ثابت ہے کہ جو مصلوب ہو وہ لعنتی ہے اور مصلوب وہی ہوتا ہے جو صلیب پر مرجاوے وجہ یہ کہ صلیب کی علت غائی قتل کرنا ہے سو ہرگز ممکن نہیں کہ وہ صلیب پر مرے ہوں کیونکہ ایک نبی مقرب اللہ لعنتی نہیں ہوسکتا اور خود حضرت عیسی نے آپ بھی فرما دیا کہ میں قبر میں ایسا ہی داخل ہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا تھا یہ ان کے کلام کا ماحصل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا کیونکہ نبی کی مثال غیر مطابق نہیں ہو سکتی سو وہ بلا شبہ قبر میں زندہ ہی داخل کئے گئے اور یہ کر اللہ تھا تا یہودان کو مردہ سمجھ لیں اور اس طرح وہ ان کے ہاتھ سے نجات پاویں۔یہ واقعہ غار ثور کے واقعہ سے بھی بالکل مشابہ ہے اور وہ غار بھی قبر کی طرح ہے جواب تک موجود ہے اور غار میں توقف کرنا بھی تین دن ہی لکھا ہے جیسا کہ مسیح کے قبر میں رہنے کی مدت تین دن ہی بیان کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ ثور کی یہ مشابہت جو مسیح کی قبر سے ہے اس کا اشارہ بھی حدیثوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے یونس نبی سے مشابہت سے ایک اشارہ کیا ہے۔پس گویا یہ تین نبی یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور سی اور یونس علیہ السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اس میں رہے اور زندہ ہی نکلے (یوسف علیہ السلام کا کنویں میں سے زندہ نکلنا بھی اسی سے مشابہ ہے۔منہ ) اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہی بات صحیح ہے جو لوگ مرہم حوار بین کے مضمون پر غور کریں گے وہ بالضرور اس نکتہ تک پہنچ جائیں گے کہ ضرور حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں قبر میں زندہ داخل کئے گئے تھے پلاطوس کی بیوی کی خواب بھی اسی کے موید ہے کیونکہ فرشتہ نے اسکی بیوی کو یہی بتلایا تھا کہ عیسی اگر صلیب پر مر گیا تو اس پر اور اسکے خاوند پر تباہی آئے گی۔مگر کوئی تباہی نہیں آئی۔جس کا یہ نتیجہ ضروری ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔م منه ( ست بچن۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 309 تا310 حاشیه در حاشیه )