فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 17
ست بچن 17 فلسطین سے کشمیر تک پرستش نہیں کرتے بلکہ تمام انبیاء کو گنہگار اور مرتکب صغائر و کبائر خیال کرتے ہیں۔ہاں بلاد شام میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبر حضرت عیسی علیہ السلام کی ہی قبر ہے جس میں مجروح ہونے کی حالت میں وہ رکھے گئے تھے اور اگر اس قبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سے کچھ تعلق نہیں تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا قول صادق نہیں ٹھہرے گا اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ آنحضرت ﷺ ایسی مصنوعی قبر کو قبر نبی قراردیں جو محض جعلسازی کے طور پر بنائی گئی ہو۔کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی شان سے بعید ہے کہ جھوٹ کو واقعات صحیحہ کے محل پر استعمال کریں پس اگر حدیث میں نصاریٰ کی قبر پرستی کے ذکر میں اس قبر کی طرف اشارہ نہیں تو اب واجب ہے کہ شیخ بطالوی اور دوسرے مخالف مولوی کسی اور ایسے نبی کی قبر کا ہمیں نشان دیں جس کی عیسائی پرستش کرتے ہوں یا کبھی کسی زمانہ میں کی ہے۔نبوت کا قول باطل نہیں ہوسکتا چاہئے کہ اس کو سرسری طور پر نہ ٹال دیں اور ردی چیز کی طرح نہ پھینک دیں کہ یہ سخت ہے ایمانی ہے بلکہ دو باتوں سے ایک بات اختیار کریں۔(۱) یا تو اس قبر کا ہمیں پتا دیویں جو کسی اور نبی کی کوئی قبر ہے اور اس کی عیسائی پرستش کرتے ہیں۔(۲) اور یا اس بات کو قبول کریں کہ بلاد شام میں جو حضرت عیسی کی قبر ہے جس کی نسبت سلطنت انگریزی کی طرف سے پچھلے دنوں میں خریداری کی بھی تجویز ہوئی تھی جس پر ہر سال بہت سا ہجوم عیسائیوں کا ہوتا ہے اور سجدے کئے جاتے ہیں وہ در حقیقت وہی قبر ہے جس میں حضرت مسیح مجروح ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے تھے پس اگر یہ وہی قبر ہے تو خود سوچ لیں کہ اسکے مقابل پر وہ عقیدہ کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ چھت کی راہ سے آسمان پر پہنچائے گئے۔کس قدر لغو اور خلاف واقعہ عقیدہ ٹھہرے گا۔لیکن یہ واقعہ جو حدیث کی رو سے ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ ضرور حضرت عیسی قبر میں داخل کئے گئے یہ اس قصہ کو جو مر ہم حوار بین کی نسبت ہم لکھ چکے ہیں نہایت قوت دیتا ہے کیونکہ اس سے اس بات کیلئے قرائن قویہ پیدا ہوتے ہیں کہ ضرور حضرت مسیح کو یہودیوں کے ہاتھ سے ایک جسمانی صدمہ پہنچا