فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 16
16 فلسطین سے کشمیر تک ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے اور جب تک وہ کشمیر میں زندہ رہے ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر مقام کیا گویا آسمان پر چڑھ گئے۔حضرت مولوی نور دین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہوتی ہے جب ہم جامع مسجد سے اس مکان میں جائیں جہاں شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ کے تبرکات ہیں تو یہ قبر تھوڑی شمال کی جانب عین کو چہ میں ملے گی اس کو چہ کا نام خانیار ہے اور یہ اصل قدیم شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے جیسا کہ ڈاکٹر بر نیر نے لکھا ہے پس اس بات کو بھی خیانت پیشہ عیسائیوں کی طرح ہنسی میں نہیں اڑانا چاہئے کہ حال میں ایک انجیل تبت سے دفن کی ہوئی نکلی ہے جیسا کہ وہ شائع بھی ہو چکی ہے بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں۔مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے بکلی منہ نہیں پھیرنا چاہئے جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔منہ ست بچن۔روحانی خزائن جلد 10 صفحه 302 تا 307 حاشیه در حاشیه ) ہمارے متعصب مولوی ابتک یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور دوسرے نبیوں کی تو فقط روحیں آسمان پر ہیں مگر حضرت عیسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر چڑھائے بھی نہیں گئے بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر چڑھایا گیا لیکن ان بیہودہ خیالات کے رد میں علاوہ ان ثبوتوں کے جو ہم ازالہ اوہام اور حمامتہ البشری وغیرہ کتابوں میں دے چکے ہیں ایک اور قوی ثبوت یہ ہے کہ صحیح بخاری صفحہ ۳۳۹ میں یہ حدیث موجود ہے لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبياء هم مساجد۔یعنی یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا یعنی ان کو سجدہ گاہ مقرر کر دیا اور ان کی پرستش شروع کی۔اب ظاہر ہے کہ نصاری بنی اسرائیل کے دوسرے نبیوں کی قبروں کی ہرگز