فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 14
ست بچن 14 فلسطین سے کشمیر تک معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کا لفظ بھی رفتہ رفتہ بجائے عیسی کے لفظ کے مستعمل ہو گیا۔ممکن ہے کہ حضرت عیسی نے پہاڑ پر عبادت کے لئے کوئی مکان بنایا ہو کیونکہ یہ شاذ و نادر ہے کہ کوئی بات بغیر کسی اصل صحیح کے محض بے بنیاد افترا کے طور پر مشہور ہو جائے۔ہاں یہ غلطی قریب قیاس ہے کہ بجائے عیسی کے عوام کو جو پچھلی تو میں تھیں سلیمان یاد رہ گیا ہو اور اس قدر غلطی تعجب کی جگہ نہیں۔چونکہ یہ تین نبی ایک ہی خاندان میں سے ہیں اس لئے یہ غلطیاں کسی اتفاقی مسامحت سے ظہور میں آگئیں تبت سے کوئی نسخہ انجیل یا بعض عیسوی وصایا کا دستیاب ہونا جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ جب قرائن قویہ قائم ہیں کہ بعض نبی بنی اسرائیل کے کشمیر میں ضرور آئے گو ان کے تعین نام میں غلطی ہوئی اور ان کی قبر اور مقام بھی اب تک موجود ہے تو کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ نبی در حقیقت عیسی ہی تھا جو اول کشمیر میں آیا اور پھر تبت کا بھی سیر کیا اور کچھ بعید نہیں کہ اس ملک کے لوگوں کے لئے کچھ وصیتیں بھی لکھی ہوں اور آخر کشمیر میں واپس آ کر فوت ہو گئے ہوں۔چونکہ سرد ملک کا آدمی سرد ملک کو ہی پسند کرتا ہے اس لئے فراست صحیحہ قبول کرتی ہے کہ حضرت عیسی کنعان کے ملک کو چھوڑ کر ضرور کشمیر میں پہنچے ہوں گے۔میرے خیال میں کسی کو اس میں کلام نہ ہوگا کہ خطہ کشمیر کو خطہ شام سے بہت مشابہت ہے پھر جبکہ ملکی مشابہت کے علاوہ قوم بنی اسرائیل بھی اس جگہ موجود تھی تو حضرت مسیح اس ملک کے چھوڑنے کے بعد ضرور کشمیر میں آئے ہوں گے مگر جاہلوں نے دور دراز زمانہ کے واقعہ کو یاد نہ رکھا اور بجائے عیسی کے موسیٰ یا سلیمان یا درہ گیا۔اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودہ ۱۴ ابرس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں نو کر رہا ہوں اور اکثر کشمیر میں ہر ایک عجیب مکان وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا تھا لہذا اس مدت دراز کے تجربہ کے رو سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر بر نیر صاحب نے اس بات کے بیان کرنے میں کہ اہل کشمیر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کشمیر میں موسیٰ کی قبر ہے غلطی کی ہے جو لوگ کچھ مدت کشمیر میں رہے ہیں وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ کشمیر میں موسیٰ نبی کے نام سے کوئی قبر مشہور نہیں ڈاکٹر صاحب کو بوجہ اجنبیت زبان کے ٹھیک ٹھیک نام کے