فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 13
13 فلسطین سے کشمیر تک کہ حضرت سلیمان اس ملک میں آئے تھے۔چوتھے یہاں کے لوگوں کا یہ بھی گمان ہے کہ حضرت موسیٰ نے شہر کشمیر ہی میں وفات پائی تھی اور ان کا مزار شہر سے قریب تین میل کے ہے۔پانچویں عموماً یہاں سب لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اونچے پہاڑ پر جو ایک مختصر اور نہایت پورا نا مکان نظر آتا ہے اس کو حضرت سلیمان نے تعمیر کرایا تھا اور اسی سبب سے اس کو آج تک تخت سلیمان کہتے ہیں۔سو میں اس بات سے انکار کرنا نہیں چاہتا کہ یہودی لوگ کشمیر میں آ کر بسے ہوں پہلے رفتہ رفتہ تنزل کرتے کرتے بت پرست بن گئے ہوں گے اور پھر آخر اور بت پرستوں کی طرح مذہب اسلام کی طرف مائل ہو گئے ہوں گئے یہ رائے ڈاکٹر بر نیر کی ہے جو انہوں نے اپنی کتاب سیر و سیاحت میں لکھی ہے۔مگر اسی بحث میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ غالباً اسی قوم کے لوگ پیکن میں موجود ہیں جو مذہب موسوی کے پابند ہیں اور ان کے پاس توریت اور دوسری کتابیں بھی ہیں۔مگر حضرت عیسی کی وفات یعنی مصلوب ہونے کا حال ان لوگوں کو بالکل معلوم نہیں“ ڈاکٹر صاحب کا یہ فقرہ یاد رکھنے کے لائق ہے کیونکہ آج تک بعض نادان عیسائیوں کا یہ گمان ہے کہ حضرت عیسی کے مصلوب ہونے پر یہود اور نصاری کا اتفاق ہے اور اب ڈاکٹر صاحب کے قول سے معلوم ہوا کہ چین کے یہودی اس قول سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ حضرت عیسی سولی پر مر گئے اور ڈاکٹر صاحب نے جو کشمیریوں کے یہودی الاصل ہونے پر دلائل لکھے ہیں یہی دلائل ایک غور کرنے والی نگاہ میں ہمارے متذکرہ بالا بیان پر شواہد بعینہ ہیں یہ واقعہ مذکورہ جو حضرت موسیٰ کشمیر میں آئے تھے چنانچہ ان کی قبر بھی شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ موسیٰ سے مراد عیسی ہی ہے کیونکہ یہ بات قریب قیاس ہے کہ جب کشمیر کے یہودیوں میں اس قدر تغیر واقع ہوئے کہ وہ بہت پرست ہو گئے اور پھر مدت کے بعد مسلمان ہو گئے تو کم علمی اور لا پروائی کی وجہ سے عیسی کی جگہ موسیٰ انہیں یا درہ گیا ورنہ حضرت موسیٰ تو موافق تصریح توریت کے حورب کی سرزمین میں اس سفر میں فوت ہو گئے تھے جو مصر سے کنعان کی طرف بنی اسرائیل نے کیا تھا اور حورب کی ایک وادی میں بیت فغفور کے مقابل دفن کئے گئے دیکھواستثناء ۳۴ باب ورس ۵۔ایسا ہی