فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 286

ملفوظات 286 فلسطین سے کشمیر تک (17 اکتوبر 1902ء) مردوں کے قبروں سے نکلنے کی تعبیر : پھر اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب ایک انگریزی کتاب حضرت اقدس کو سناتے رہے جس میں ایک موقعہ پر یہ بھی تھا کہ جب مسیح کو صلیب دی گئی تو اس وقت مردے قبروں سے نکلے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔عالم رویا میں مردہ کے قبر سے نکلنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ کوئی گرفتار آزاد ہوممکن ہے کہ کسی نے عالم کشفی میں یہ دیکھا ہو ورنہ یہ اپنے طاہری معنوں میں ہرگز نہیں ہوا۔طاعون کا علاج: ( ملفوظات جلد دوم صفحه 405) ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ٹیکہ بھی علاج نہیں اور اللہ تعالیٰ کا حفاظت کا وعدہ ہے تو پھر مرہم عیسی اور جدوار کا استعمال کیوں بتلایا ہے حضرت صاحب نے فرمایا کہ:۔جو علاج اللہ تعالیٰ بتلاوے وہ تو اسی حفاظت میں داخل ہے کہ اس نے خود ایک طریق حفاظت بھی ساتھ بتلا دیا اور انشراح صدر سے ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں لیکن اگر ٹیکہ میں خیر ہوتی تو ہم کو اس کا حکم کیا جاتا اور پھر دیکھتے کہ سب سے اول ہم ہی کرواتے اگر خدا تعالیٰ آج ہی بتلا دے کہ فلاں علاج ہے یا فلاں دوا مفید ہے تو کیا ہم اسے استعمال نہ کریں گے؟ وہ تو نشان ہوگا۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم خود کس قدر متوکل تھے مگر ہمیشہ لوگوں کو دوائیں بتلاتے تے اگر ہم عوام الناس کی طرح ٹیکہ کروائیں تو خدا پر ایمان نہ ہوا پہلے یہ تو فیصلہ کیا جائے کہ آیا ہم نے ۲۲ برس پہلے طاعون کی اطلاع دی۔کہ جس وقت طاعون کا نام ونشان تک نہ تھا اور پھر ہر ۵ برس بعد اس کے متعلق ضرور کوئی نہ کوئی خبر دی