فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 279

ملفوظات 279 فلسطین سے کشمیر تک یہ ایسی باتیں ہیں جو صلیب کے واقعہ کا سارا پر دہ ان سے کھل جاتا ہے۔ہاں اگر مسیحی اس بات کے قائل نہ ہوتے تو البتہ بحث بند ہو جاتی لیکن جبکہ انہوں نے قبول کر لیا ہے کہ یوز آسف ایک شخص ہوا ہے اور اس کی تعلیم انجیل ہی کی تعلیم ہے اور اس نے بھی اپنی کتاب کا نام انجیل ہی رکھ لیا ہے اور جس طرح پر شہزادہ نبی مسیح کا نام ہے اس کو بھی شہزادہ نبی کہتے ہیں۔اب غور کرنے کے قابل بات ہے کہ اگر یہ خود مسیح ہی نہیں تو اور کون ہے؟ خدا کے لئے سوچو۔جو شخص دنیا سے دل نہیں لگا تا اور سچائی سے پیار کرتا ہے اس کو تو ماننے میں ذرا بھی عذر نہیں ہوسکتا، کیونکہ جب مان لیا کہ یوز آسف واقعی ایک شخص تھا جس کا مسیح سے تعلق تھا اور پھر اٹلی میں اس کا گرجا بھی بنا دیا اور ہر سال وہاں میلہ بھی ہوتا ہے اور پھر یہ بھی اقرار کر لیا کہ اس کی تعلیم انجیل ہی کی تعلیم ہے پھر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ خود مسیح نہیں ہے؟ یہ چار باتیں جب تسلیم کر لیں تو میں ایک جز لے کر آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ آپ جو کہتے ہیں کہ وہ حواری تھا۔ثابت کر کے دکھاؤ کہ یوز آسف کسی حواری کا بھی نام تھا۔اور یوز آسف تو یسوع سے بگڑا ہوا ہے۔اب ایک ہی بات سے فیصلہ ہوتا ہے۔اگر یہ ثابت کر کے دکھایا جاوے کہ مسیح کے کسی حواری کا نام یوز آسف ، شہزادہ نبی اور عیسی صاحب ہے تو بے شک یہ قبر کسی حواری کی قبر ہوگی۔اگر یہ ثابت نہ ہو اور ہرگز ہرگز ثابت نہ ہوگا، تو پھر میری بات کو مان لو کہ اس قبر میں خود حضرت مسیح ہی سوتے ہیں۔مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ بردباری کے ساتھ سنتے ہیں۔جو بردباری سے سنتا ہے وہ تحقیق کر سکتا ہے۔جس قدر باتیں آپ نے سنی ہیں دوسرے کم سنتے ہیں۔آپ خدا کے لئے غور کریں کہ جس حالت میں یہ قصہ مشترک ہو گیا ہے کہ وہ حواریوں میں سے تھا۔بہر حال تعلق تو مانا گیا اور پھر گر جا بنا دیا اور ہر سال میلہ ہونے لگا تو اب آپ بتائیں کہ یہ ثبوت کس کے ذمہ ہے؟ اگر مسیحی تعلق نہ مان لیتے تو بار ثبوت بیشک میرے ذمے ہوتا۔لیکن جب آپ لوگوں نے خود اس کو مان لیا ہے۔تو میں آپ سے ثبوت مانگتا ہوں کہ کسی ایسے حواری کا پتہ دیں جو شاہزادہ نبی کہلایا ہو۔“ پادری صاحب: ہم آپ کی مہربانی اور خاطر داری کے لئے بہت مشکور ہیں۔