فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 278
ملفوظات 278 فلسطین سے کشمیر تک پر مرنا بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔وہ ہرگز ہرگز صلیب پر نہیں مرے اور وہ ہے مسیح کی قبر۔مسیح کی قبر : مسیح کی قبر سری نگر خانیار کے محلہ میں ثابت ہوگئی ہے اور یہ وہ بات ہے جو دنیا کو ایک زلزلہ میں ڈال دے گی۔کیونکہ اگر مسیح صلیب پر مرے تھے، تو یہ قبر کہاں سے آ گئی؟ سوال : آپ نے خود دیکھا ہے؟ جواب: میں خود وہاں نہیں گیا، لیکن میں نے اپنا ایک مخلص ثقہ مرید وہاں بھیجا تھا۔وہ وہاں ایک عرصہ تک رہا اور اس کے متعلق پوری تحقیقات کر کے پانسو معتبر آدمیوں کے دستخط کرائے جنہوں نے اس قبر کی تصدیق کی۔وہ لوگ اس کو شہزادہ نبی کہتے ہیں اور عیسی صاحب کی قبر کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔آج سے گیارہ سو سال پہلے اکمال الدین نام ایک کتاب چھپی ہے وہ بعینہ انجیل ہے۔وہ کتاب یوز آسف کی طرف منسوب ہے۔اس نے اس کا نام بشری یعنی انجیل رکھا ہے۔یہی تمثیلیں ، یہی قصے، یہی اخلاقی باتیں جو انجیل میں پائی جاتی ہیں اور بسا اوقات عبارتوں کی عبارتیں انجیل سے ملتی ہیں۔اب یہ ثابت شدہ بات ہے کہ وہ یوز آسف کی قبر ہے۔یوز آسف یوز آسف وہی ہے جس کو یسوع کہتے ہیں۔اور آسف کے معنی ہیں پراگندہ جماعتوں کو جمع کرنے والا۔چونکہ مسیح علیہ السلام کا کام بھی بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو جمع کرنا تھا اور اہل کشمیر بہ اتفاق اہلِ تحقیق بنی اسرائیل ہی ہیں۔اس لئے ان کا یہاں آنا ضروری تھا۔اس کے علاوہ خود یوز آسف کا قصہ یورپ میں مشہور ہے، بلکہ یہاں تک کہ اٹلی میں اس نام پر ایک گرجا بھی بنایا گیا ہے اور ہر سال وہاں ایک میلہ بھی ہوتا ہے۔اب اس قدر صرف کثیر سے ایک مذہبی عمارت کا بنانا اور پھر ہر سال اس پر ایک میلہ کرنا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو سرسری نگاہ سے دیکھی جائے۔وہ کہتے ہیں کہ یوز آسف مسیح “ کا حواری تھا۔ہم کہتے ہیں کہ یہ بات سچی نہیں ہے۔یوز آسف خود ہی مسیح تھا۔اگر وہ حواری ہے تو یہ تمہارا فرض ہے کہ تم ثابت کرو کہ مسیح کے کسی حواری کا نام شہزادہ نبی تھا۔