فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 5
اتمام الحجه 5 فلسطین سے کشمیر تک يافا الى القدس في اقل من ساعة فعدة المسافة من طرابلس الى القدس تسعة ايام مع الراحة واليها طرق من طرابلس واقربها طريق البحر بحيث لوركب الانسان من طرابلس بالمركب النارى يصل الى يافا بيوم وليلة ومنها الى القدس ساعة في الريل والسلام عليكم ورحمة الله و بركاته ادام الله وجود كم وحفظكم وايدكم ونصركم على اعدائكم۔أمين۔كتبه خادمكم محمد السعيدي الطرابلسي عفا الله عنه ترجمہ: اے حضرت مولانا واما منا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپ کو شفا بخشے۔( میری بیماری کی حالت میں یہ خط شامی صاحب کا آیا تھا ) جو کچھ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور دوسرے حالات کے متعلق سوال کیا ہے سو میں آپ کی خدمت میں مفصل بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گر جا بنا ہوا ہے اور وہ گر جا تمام گر جاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسی کی قبر ہے اور اسی گر جامیں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں۔اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام میروشلم تھا اور اس کو اور شلم بھی کہتے ہیں۔اور حضرت عیسی کے فوت ہونے کے بعد اس شہر کا نام ایلیاء رکھا گیا اور پھر فتوح اسلامیہ کے بعد اس وقت تک اس شہر کا نام قدس کے نام سے مشہور ہے اور عجمی لوگ اس کو بیت المقدس کے نام سے بولتے ہیں۔مگر طرابلس اور قدس میں جو فاصلہ ہے میں تحقیقی طور پر اس کو بتلا نہیں سکتا کہ کس قدر ہے ہاں راہوں اور منزلوں کے لحاظ سے تقریباً معلوم ہے۔اور طرابلس سے قدس کی طرف جانے کی کئی راہیں ہیں۔ایک راہ یہ ہے کہ طرابلس سے بیروت کو جائیں اور طرابلس سے بیروت تک دو متوسط منزلیں ہیں۔اور ہم لوگ منزل اس کو کہتے ہیں جو صبح سے عصر تک سفر کیا جائے اور پھر بیروت سے صیدا تک ایک منزل ہے اور صیدا سے حیفا تک ایک منزل اور حیفا سے عکا تک ایک منزل اور عکاسے سور تک ایک منزل اور بلاد شام کو سور یہ اسی