فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 239

ریویو آف ریلیجنز 239 فلسطین سے کشمیر تک ہوگا اور وہ عذاب ان پر نازل نہ ہوا اس لئے یونس کے دل پر اس سے بہت صدمہ پہنچا کہ اس کی پیشگوئی غلط نکلی اور وہ قوم سے ڈر کر کسی دوسرے ملک کی طرف بھاگ گیا۔اسی طرح مسیح ابن مریم پر جو ابتلا آیا اس کی جڑھ بھی اسکی وہ پیشگوئی تھی جو قوم کی نسبت اس نے کی تھی یعنی یہ کہ وہ اس قوم پر حکمراں اور بادشاہ ہو جائے گا اور داؤد کا تخت اسے ملے گا مگر وہ پیشگوئی ان معنوں کے رو سے جو مسیح نے مجھی پوری نہ ہوئی اور غلط نکلی اس لئے مسیح کو اس کی وجہ سے بہت صدمہ پہنچا اور وہ جیسا کہ اس نے انجیل میں اشارہ کیا ہے ارادہ رکھتا تھا کہ یونس کی طرح کسی اور ملک کی طرف بھاگ جائے کیونکہ اس نے کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں پس اس کے دل میں تھا کہ کسی اور جگہ ہجرت کر کے عزت پاوے اور ہجرت انبیاء علیہم السلام کی سنت میں سے بھی ہے لیکن چونکہ کسی قدر قوم کے ہاتھ سے دکھ اٹھانا اس کی قسمت میں تھا اس لئے اس ارادہ کے پورا کرنے کے پہلے ہی پکڑا گیا اور سولی پر کھینچا گیا مگر جیسا کہ یونس کے قصہ کے خیال سے سمجھا جاتا ہے خدا نے اس کو اس موت سے بچالیا اور اس کی دعا کو جو باغ میں کی تھی اس کے تقویٰ کی وجہ سے قبول کیا۔تب اس نے اپنے اس ارادہ کو پورا کیا جو اس کے دل میں تھا اور دوسری گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں وہ دور دراز ملکوں کی طرف نکل گیا اسی وجہ سے اس کا یسوع آسف نام ہوا یعنی گمشدہ قوم کو تلاش کرنے والا۔پھر کثرتِ استعمال سے یہ لفظ یوز آسف کے نام سے مشہور ہو گیا۔غرض یونس نبی سے مسح کی یہی مماثلت تھی کہ وہ زندگی کی حالت میں ہی یونس کی طرح قبر میں داخل ہوا اور نیز قوم کے ڈر سے دوسرے ملک کی طرف بھاگا۔اگر اس مماثلت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر مسیح کا بیان خلاف واقع ٹھہرتا ہے اور نیز بجائے مماثلت کے منافات ثابت ہوتی ہے اور مماثلت کے قبول کرنے سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔پھر دوسری دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔اس کی وہ دعا ہے جو اس نے باغ میں نہایت تضرع اور عاجزی سے کی تھی جس کا مفصل ذکر انجیلوں میں موجود ہے اور میں ہرگز سمجھ نہیں سکتا کہ اس قسم کی دعا کہ مسیح جیسا ایک راستباز ساری رات کرے اور گریہ اور