فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 3
اتمام الحجه 3 فلسطین سے کشمیر تک ہوتا ہے کہ وہ کشف کا ہی عالم تھا۔انجیل میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کشفی طور پر حضرت موسیٰ اور حضرت بیٹی کو بھی خواب میں دیکھا تھا۔غرض اعلیٰ درجہ کا کشف بعینہ عالم بیداری ہوتا ہے اور اگر کسی کو اس کو چہ میں کچھ دخل ہو تو ہم بڑی آسانی سے اس کو تسلیم کرا سکتے ہیں مگر محض بیگانوں اور بے خبروں کے مقابل پر کیا کیا جائے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353 تا 354) اتمام الحجيد (1894ء) فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے لفظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی دونوں شریک ہیں گویا یہ آیت دونوں کے حق میں وارد ہے تو اس آیت کے خواہ کوئی معنے کر و دونوں اس میں شریک ہوں گے۔سواگر تم یہ کہو کہ اس جگہ توفی کے معنے زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے تو تمہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ اس زندہ اٹھائے جانے میں حضرت عیسی کی کچھ خصوصیت نہیں بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں کیونکہ آیت میں دونوں کی مساوی شراکت ہے۔لیکن یہ تو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پاگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کی قبر مبارک موجود ہے تو پھر اس سے تو بہر حال ماننا پڑا کہ حضرت عیسی بھی وفات پاگئے ہیں۔اور لطف تو یہ کہ حضرت عیسی کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے اور ہم زیادہ صفائی کے لئے اس جگہ حاشیہ میں اخویم تمی فی اللہ سید مولوی محمد السعیدی طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں اور وہ طرابلس بلادشام کے رہنے والے ہیں اور انہیں کی حدود میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے اور اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہیئے۔اور ثابت کرنا چاہیئے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا ہے اور اس صورت میں دوسرے انبیاء کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہیں رہے گی اور امان اٹھ جائے گا۔اور کہنا پڑے گا کہ شاید وہ تمام قبریں جعلی ہی ہوں۔بہر حال آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے یہی معنے ثابت ہوئے کہ مار دیا۔بعض نادان نام کے مولوی کہتے ہیں کہ یہ تو سچ ہے کہ اس آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے مارنا ہی معنے ہیں نہ اور کچھ ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلا شام میں قبر ہے مگراب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کیلئے مجبور کرتی ہے