فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 227
براہین احمدیہ حصہ پنج 227 فلسطین سے کشمیر تک شخص نہیں ہے۔اے خدا جو سب سے بلند تر ہے میرے گناہ معاف کر۔اے خدا ایسا نہ کر کہ میں اپنے دشمنوں کے لئے الزام کا سبب ہوں۔نہ مجھے اپنے دوستوں کی نظر میں حقیر ٹھہرا اور ایسا نہ ہو کہ میرا تقویٰیٰ مجھے مصائب میں ڈالے۔ایسا نہ کر کہ یہی دنیا میری بڑی خوشی کی جگہ یا میرا بڑا مقصد ہو اور ایسے شخص کو مجھ پر مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے۔اے خدا جو بڑے رحم والا ہے اپنے رحم کی خاطر ایسا ہی کر۔تو ان سب پر رحم کرتا ہے جو تیرے رحم کے حاجت مند ہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 336 تا345) یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسی کو قتل کر دیا اس قول سے یہودیوں کا مطلب یہ تھا کہ عیسیٰ کا مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا پیغمبر قتل کیا جاتا ہے۔پس خدا نے اس کا جواب دیا کہ عیسی قتل نہیں ہوا بلکہ ایمانداروں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کا رفع ہوا۔منہ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 337 حاشیہ ) یہودی فاضل جواب تک موجود ہیں اور بمبئی اور کلکتہ میں بھی پائے جاتے ہیں عیسائیوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے بڑا ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں جنہوں نے اصل بات کو سمجھا نہیں۔کیونکہ قدیم یہودیوں کا تو یہ دعوی تھا کہ جو شخص صلیب دیا جائے وہ بے دین ہوتا ہے اور اس کی رُوح آسمان پر اٹھائی نہیں جاتی۔اس دعوی کے رد کرنے کے لئے عیسائیوں نے یہ بات بنائی کہ گویا حضرت عیسی مع جسم آسمان پر چلے گئے ہیں تا وہ داغ جو مصلوب ہونے سے حضرت عیسی پر لگتا تھا وہ دُور کر دیں مگر اس منصوبہ میں انہوں نے نہایت نادانی ظاہر کی کیونکہ یہودیوں کا یہ تو عقیدہ نہیں کہ جو شخص مع جسم آسمان پر نہ جاوے وہ بے دین اور کا فر ہوتا ہے اور اس کی نجات نہیں ہوتی۔کیونکہ بموجب عقیدہ یہودیوں کے حضرت موسیٰ بھی مع جسم آسمان پر نہیں گئے۔یہودیوں کی حجت تو یہ تھی کہ بموجب حکم تو ریت کے جو شخص کا ٹھ پر لڑکا یا جائے اس کی رُوح آسمان پر اُٹھائی نہیں جاتی کیونکہ صلیب جرائم پیشہ لوگوں کے