فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 223
223 فلسطین سے کشمیر تک براہین احمدیہ حصہ پنجم جاتا اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قتلوا کے لفظ کو صَلَبُوا کے لفظ پر مقدم بیان کیا۔کیونکہ جو دعوئی اس مقام میں یہودیوں کی طرف سے بیان کیا گیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انا ☆ قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ۔پھر بعد اس کے یہ بھی معلوم ہو کہ حضرت عیسی کے ہلاک کرنے کے بارے میں کہ کس طرح ان کو ہلاک کیا یہودیوں کے مذہب قدیم سے دو ہیں۔ایک فرقہ تو کہتا ہے کہ تلوار کے ساتھ پہلے ان کو قتل کیا گیا تھا اور پھر ان کی لاش کو لوگوں کی عبرت کے لئے صلیب پر یا درخت پر لٹکایا گیا۔اور دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ اُن کو صلیب دیا گیا تھا اور پھر بعد صلیب ان کو قتل کیا گیا۔اور یہ دونوں فرقے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے اور اب بھی موجود ہیں۔پس چونکہ ہلاک کرنے کے وسائل میں یہودیوں کو اختلاف تھا۔بعض ان کی ہلاکت کا ذریعہ اول قتل قرار دے کر پھر صلیب کے قائل تھے اور بعض صلیب کو قتل پر مقدم سمجھتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ دونوں فرقوں کا رد کر دے۔مگر چونکہ جس فرقہ کی تحریک سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ وہی ہیں جو قبل از صلیب قتل کا عقیدہ رکھتے تھے اس لئے قتل کے گمان کا ازالہ پہلے کر دیا گیا اور صلیب کے خیال کا ازالہ بعد میں۔افسوس کہ یہ شبہات دلوں میں اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ عموماً اکثر مسلمانوں کو نہ یہودیوں کے فرقوں اور ان کے عقیدہ سے پوری واقفیت ہے اور نہ عیسائیوں کے عقیدوں کی پوری اطلاع ہے۔لہذا میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس جگہ میں یہودیوں کی ایک پرانی کتاب میں سے جو قریباً انیس سو برس کی تالیف ہے اور اس جگہ ہمارے پاس موجود ہے ان کے اس عقیدہ کی نسبت جو حضرت مسیح کے قتل کرنے کے بارے میں ایک فرقہ ان کا رکھتا ہے بیان کر دوں۔اور یادر ہے کہ اس کتاب کا نام تولیدوت یشوع ہے جو ایک قدیم زمانہ کی ایک عبرانی کتاب مصنفہ بعض علماء یہود ہے۔چنانچہ اس کتاب کے صفحہ اس میں لکھا ہے۔” پھر وہ ( یعنی یہودی لوگ ) یسوع کو باہر سزا کے میدان میں لے گئے اور اس کو سنگسار کر کے مارڈالا اور جب وہ مر گیا تب اس کو کاٹھ پر لٹکا دیا تا کہ اس کی لاش کو جانور کھائیں اور اس طرح مردہ کی ذلّت ہو۔اس قول کی تائید انجیل کے اس قول سے بھی ہوتی وو النساء : 158