فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 219
219 فلسطین سے کشمیر تک لیکچر لدھیانہ ، چشمه مسیحی کہ وعدہ کے برخلاف کسی بشر کو آسمان پر چڑھاوے۔حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ تمام بشر زمین پر ہی اپنی زندگی بسر کریں گے۔لیکن حضرت مسیح کو خدا نے آسمان پر معہ جسم چڑھا دیا اور اس وعدہ کا کچھ پاس نہ کیا۔جیسا کہ فرمایا تھا فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تخرَجُونَ۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 219 تا 220) لیکچرلدھیانہ(1905ء) پھر دوسری احادیث میں حضرت عیسی کی عمر ۱۲۰ یا ۱۲۵ برس کی قرار دی ہے۔ان سب امور پر ایک جائی نظر کرنے کے بعد یہ امر تقویٰ کے خلاف تھا کہ جھٹ پٹ یہ فیصلہ کر دیا جاتا کہ مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہے اور پھر اس کی کوئی نظیر بھی نہیں۔عقل بھی یہی تجویز کرتی تھی مگر افسوس ان لوگوں نے ذرا بھی خیال نہ کیا۔اور خدا ترسی سے کام نہ لے کر فوراً مجھے دجال کہہ دیا۔خیال کرنے کی بات ہے کہ کیا یہ تھوڑی سی بات تھی ؟ افسوس ! لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 267) چشمه سیحی (1906ء) اور ان دنوں میں میں نے ایک ہندو کا رسالہ دیکھا ہے جس نے یہ کوشش کی ہے کہ انجیل بدھ کی تعلیم کا سرقہ ہے اور بدھ کی اخلاقی تعلیم کو پیش کر کے اس کا ثبوت دینا چاہا ہے۔اور عجیب تریہ کہ بدھ لوگوں میں وہی قصہ شیطان کا مشہور ہے جو اس کو آزمانے کے لئے کئی جگہ لئے پھرا۔پس ہر ایک کو یہ خیال دل میں لانے کا حق ہے کہ تھوڑے سے تغییر سے وہی قصہ انجیل میں بھی بطور سرقہ داخل کر دیا گیا ہے۔یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام ہندوستان میں آئے تھے اور حضرت عیسی کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے جس کو ہم نے دلائل سے ثابت کیا ہے۔اس صورت میں ایسے معترضین کو اور الاعراف : 26