فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 213
تذكرة الشهادتين 213 فلسطین سے کشمیر تک آخری مسیح کی پیدائش سے پہلے اسلامی سلطنت بباعث طرح طرح کی بدچلنیوں کے ملک ہندوستان سے اُٹھ گئی تھی اور انگریزی سلطنت اس کی جگہ قائم ہوگئی تھی۔سوم۔خصوصیت جو پہلے مسیح میں پائی گئی وہ یہ ہے کہ اس کے وقت میں یہودلوگ بہت سے فرقوں پر منقسم ہو گئے تھے اور بالطبع ایک حکم کے محتاج تھے تا ان میں فیصلہ کرے ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں مسلمانوں میں کثرت سے فرقے پھیل گئے تھے۔چہارم م خصوصیت جو پہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے لئے مامور نہ تھا۔ایسا ہی آخری مسیح جہاد کے لئے مامور نہیں ہے اور کیونکر مامور ہو زمانہ کی رفتار نے قوم کو متنبہ کر دیا ہے کہ تلوار سے کوئی دل تسلی نہیں پا سکتا اور اب مذہبی امور کے لئے کوئی مہذب تلوار نہیں اُٹھاتا۔اور اب زمانہ جس صورت پر واقع ہے خود شہادت دے رہا ہے کہ مسلمانوں کے وہ فرقے جو مہدی خونی یا مسیح خونی کے منتظر ہیں وہ سب غلطی پر ہیں۔اور ان کے خیالات خدا تعالیٰ کی منشاء کے برخلاف ہیں اور عقل بھی یہی گواہی دیتی ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ مسلمان دین کے لئے جنگ کریں تو موجودہ وضع کی لڑائیوں کے لئے سب سے فائق مسلمان ہوتے وہی تو پوں کی ایجادکرتے وہی نئی نئی بندوقوں کے موجد ٹھہرتے اور انہیں کو فنون حرب میں ہریک پہلو سے کمال بخشا جاتا۔یہاں تک کہ آئندہ زمانہ کے جنگوں کے لئے انہیں کو غبارہ بنانے کی سوجھتی اور وہی آب دوز کشتیاں جو پانی کے اندر چوٹیں کرتی ہیں بناتے اور دنیا کو حیران کرتے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ دن بدن عیسائی ان باتوں میں ترقی کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ لڑائیوں کے ذریعہ سے اسلام پھیلے ہاں عیسائی مذہب دلائل کے رُو سے دن بدن سست ہوتا جاتا ہے اور بڑے بڑے محقق تثلیث کے عقیدہ کو چھوڑتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جرمن کے بادشاہ نے بھی اس عقیدہ کے ترک کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالی۔۔۔محض دلائل کے ہتھیار سے عیسائی تثلیث کے عقیدہ کو زمین پر سے نابود کرنا چاہتا ہے۔یہ قاعدہ ہے کہ جو پہلو ہونہار ہوتا ہے پہلے سے اس کے علامات شروع ہو جاتے ہیں۔سو مسلمانوں کے لئے آسمان سے حربی فتوحات کی کچھ علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔البتہ مذہبی دلائل کی علامات