فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 197
کشتی نوح 197 فلسطین سے کشمیر تک ہوا پایا اور جس ذلت کو دیکھنے کے لئے میری نسبت اُس کی آنکھ شوق رکھتی تھی اُس ذلت کو اُس نے نہ دیکھا تب مساوات کو غنیمت سمجھ کر وہ بھی اُس پیلاطوس سے کرسی کا خواہشمند ہوا مگر اُس پیلاطوس نے اُسے ڈانٹا اور زور سے کہا کہ تجھے اور تیرے باپ کو کبھی کرسی نہیں ملی ہمارے دفتر میں تمہاری کرسی کے لئے کوئی ہدایت نہیں۔اب یہ فرق بھی غور کے لائق ہے کہ پہلے پیلاطوس نے یہودیوں سے ڈر کر ان کے بعض معز ز گواہوں کو کرسی دے دی اور حضرت مسیح کو جو مجرم کے طور پر پیش کئے گئے تھے کھڑارکھا حالانکہ وہ سچے دل سے مسیح کا خیر خواہ تھا بلکہ مریدوں کی طرح تھا اور اس کی بیوی مسیح کی خاص مرید تھی جو ولی اللہ کہلاتی ہے لیکن خوف نے اس سے یہاں تک حرکت صادر کرائی کہ ناحق بے گناہ مسیح کو یہودیوں کے حوالہ کر دیا میری طرح کوئی خون کا الزام نہ تھا صرف معمولی طور پر مذہبی اختلاف تھا لیکن وہ رومی پیلاطوس دل کا قومی نہ تھا اس بات کو سن کر ڈر گیا کہ قیصر کے پاس اُس کی شکایت کی جائے گی۔اور پھر ایک اور مماثلت پہلے پیلاطوس اور اس پیلاطوس میں یادر کھنے کے لائق ہے کہ پہلے پیلاطوس نے اس وقت جو مسیح ابن مریم عدالت میں پیش کیا گیا یہودیوں کو کہا تھا کہ میں اس شخص میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا ایسا ہی جب آخری مسیح اس آخری پیلاطوس کے روبرو پیش ہوا اور اس مسیح نے کہا کہ مجھے چند روز تک جواب کے لئے مہلت دینی چاہئے کہ مجھ پر خون کا الزام لگایا جاتا ہے تب اس آخری پیلاطوس نے کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا یہ دونوں قول دونوں پیلاطوسوں کے بالکل باہم مشابہ ہیں اگر فرق ہے تو صرف اس قدر ہے کہ پہلا پہلا طوس اپنے اس قول پر قائم نہ رہ سکا اور جب اس کو کہا گیا کہ قیصر کے پاس تیری شکایت کریں گے تو وہ ڈر گیا اور حضرت مسیح کو اس نے عمداً خونخوار یہودیوں کے حوالہ کر دیا گو وہ اس سپردگی سے غمگین تھا اور اس کی عورت بھی غمگین تھی۔کیونکہ وہ دونوں مسیح کے سخت معتقد تھے لیکن یہودیوں کا سخت شور و غوغا دیکھ کر بزدلی اُس پر غالب آگئی ہاں البتہ پوشیدہ طور پر اس نے بہت سعی کی کہ مسیح کی جان کو صلیب سے بچایا جاوے اور اس سعی میں وہ کامیاب بھی ہو گیا مگر بعد اس کے کہ میسیج صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایک ایسی سخت غشی میں آ گیا کہ گویا وہ موت ہی تھی۔بہر حال