فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 196

کشتی نوح 196 کشتی نوح (1902ء) فلسطین سے کشمیر تک وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمد یت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی بیخ سے جدا ہے پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہواگر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔سوایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں اور اس میں دورنگی نہیں آئی اور تم یقینا سمجھو کہ عیسی بن مریم فوت ہو گیا ہے اور کشمیر سرینگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔(عیسائی محققوں نے اسی رائے کو ظاہر کیا ہے۔دیکھو کتاب سو پر نیچرل ریلیچن صفحه ۵۲۲۔اگر تفصیل چاہتے ہو تو ہماری کتاب تحفہ گولڑویہ کا صفحہ ۱۳۹ د یکھ لو۔منہ ) کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16 ) قرآن شریف میں ایک آیت میں صریح کشمیر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح اور اس کی والدہ صلیب کے واقعہ کے بعد کشمیر کی طرف چلے گئے جیسا کہ فرماتا ہے۔وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِيْنِ۔* یعنی ہم نے عیسی اور اس کی والدہ کو ایک ایسے ٹیلے پر جگہ دی جو آرام کی جگہ تھی اور پانی صاف یعنی چشموں کا پانی وہاں تھا سو اس میں خدا تعالیٰ نے کشمیر کا نقشہ کھینچ دیا ہے اور اولی کا لفظ لغت عرب میں کسی مصیبت یا تکلیف سے پناہ دینے کے لئے آتا ہے اور صلیب سے پہلے عیسی اور اُس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گزرا جس سے پناہ دی جاتی پس متعین ہوا کہ خدا تعالیٰ نے عیسی اور اُس کی والدہ کو واقعہ صلیب کے بعد اُس ٹیلے پر پہنچایا تھا۔منہ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 17 حاشیہ ) جب مولوی محمد حسین جو سردار کا ہن کی طرح مخالفانہ گواہی کے لئے آیا تھا مجھے کرسی پر بیٹھا المؤمنون:51