فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 174
174 فلسطین سے کشمیر تک حالت میں انہوں نے مان لیا کہ حضرت مسیح نے اپنے نبوت کے ہی زمانہ میں بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی تو کیا وجہ کہ کشمیر جانا اُن پر حرام تھا؟ کیا ممکن نہیں کہ کشمیر میں بھی گئے ہوں اور وہیں وفات پائی ہو اور پھر جب صلیبی واقعہ کے بعد ہمیشہ زمین پر سیاحت کرتے رہے تو آسمان پر کب گئے؟ اس کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے۔منہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 106 تا 107 حاشیہ ) منجملہ گواہوں کے ایک یہ بھی زبر دست گواہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے ثبوت ہر یک پہلو سے اس زمانہ میں پیدا ہو گئے ہیں یہاں تک کہ یہ ثبوت بھی نہایت قوی اور روشن دلائل سے مل گیا کہ آپ کی قبر سری نگر علاقہ کشمیر خان یار کے محلہ میں ہے یادر ہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات حیات ہے۔اگر حضرت عیسی در حقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل بیچ ہیں۔اور اگر وہ در حقیقت قرآن کے رُو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔اب قرآن درمیان میں ہے اس کو سوچو۔منہ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 264 حاشیہ ) ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام نے ایک سو بیس ۱۲۰ برس عمر پائی ہے۔لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اُس وقت حضرت عیسی کو پیش آیا تھا جبکہ آپ کی عمر صرف تینتیں ۳۳ برس اور چھ مہینے کی تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ باقی ماندہ عمر بعد نزول پوری کر لیں گے تو یہ دعوی حدیث کے الفاظ سے مخالف ہے ماسوا اس کے حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس دنیا میں رہے گا تو اس طرح پر تینتیں ۳۳ برس ملانے سے کل تہتر سے برس ہوئے نہ ایک سو بیس ۱۲۰ برس۔حالانکہ حدیث میں یہ ہے کہ ایک سو بیس برس اُن کی عمر ہوئی۔اور اگر یہ کہو کہ ہماری طرح عیسائی بھی مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں مسیح نے خود اپنی آمد ثانی کو الیاس نبی کی آمد ثانی سے مشابہت دی ہے۔جیسا کہ انجیل متی ۷ ا باب آیت ۱۰ واا و۲ ا سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ماسوا اس کے عیسائیوں میں