فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 173

173 فلسطین سے کشمیر تک دے اور شیطان کو اختیار کرے۔مگر حواریوں کے وقت میں یہ غلطی نہیں ہوئی بلکہ اُن کے بعد عیسائیت کے بگڑنے کی یہ پہلی اینٹ تھی۔اور چونکہ حواریوں کو تاکیڈا یہ وصیت کی گئی تھی کہ میرے سفر کا حال ہر گز بیان مت کرو اس لئے وہ اصل حقیقت کو ظاہر نہ کر سکے اور ممکن ہے کہ توریہ کے طور پر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہو کہ وہ تو آسمان پر چلے گئے تا یہودیوں کا خیال دوسری طرف پھیر دیں۔غرض انہی وجوہ سے حواریوں کے بعد نصاریٰ صلیبی اعتقاد سے سخت غلطی میں مبتلا ہو گئے مگر ایک گروہ اُن میں سے اس بات کا مخالف بھی رہا اور قرائن سے انہوں نے معلوم کر لیا کہ مسیح کسی اور ملک میں چلا گیا صلیب پر نہیں مرا اور نہ آسمان پر گیا ( اس گروہ کا ایک فرقہ اب تک نصاری میں پایا جاتا ہے جو حضرت مسیح کے آسمان پر جانے سے منکر ہیں۔منہ )۔بہر حال جبکہ یہ مسئلہ نصاری پر مشتبہ ہو گیا اور یہودیوں نے صلیبی موت کی عام شہرت دے دی تو عیسائیوں کو چونکہ اصل حقیقت سے بے خبر تھے وہ بھی اس اعتقاد میں یہودیوں کے پیرو ہو گئے مگر قدرقلیل، اس لئے اُن کا بھی یہی عقیدہ ہو گیا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے تھے اور اس عقیدہ کی حمایت میں بعض فقرے انجیلوں میں بڑھائے گئے جن کی وجہ سے انجیلوں کے بیانات میں باہم تناقض پیدا ہو گیا چنانچہ انجیلوں کے بعض فقروں سے تو صاف سمجھا جاتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور بعض میں لکھا ہے کہ مرگیا۔اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے یہ فقرے پیچھے سے ملا دیئے گئے ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحه 104 تا 110 ) ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں مگر افسوس کہ ہمارے مخالفین اس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ حضرت مسیح نے کب اور کس ملک کی طرف ہجرت کی بلکہ زیادہ تر تعجب اس بات سے ہے کہ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح نے مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے بلکہ ایک وجہ تسمیہ اسم مسیح کی یہ بھی لکھتے ہیں لیکن جب کہا جائے کہ وہ کشمیر میں بھی گئے تھے تو اس سے انکار کرتے ہیں حالانکہ جس