فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 172
172 فلسطین سے کشمیر تک گئے کیوں ہجرت کر کے بطور سیاحت اس فرض کو پورا نہ کیا ؟ عجیب تر ا مر یہ ہے کہ حدیثوں میں جو کنز العمال میں ہیں اسی بات کی تصریح موجود ہے کہ یہ سیر و سیاحت اکثر ملکوں کا حضرت مسیح نے صلیبی فتنہ کے بعد ہی کیا ہے اور یہی معقول بھی ہے کیونکہ ہجرت انبیاء علیہم السلام میں سنت الہی یہی ہے کہ وہ جب تک نکالے نہ جائیں ہر گز نہیں نکلتے اور بالا تفاق مانا گیا ہے کہ نکالنے یا قتل کرنے کا وقت صرف فتنہ صلیب کا وقت تھا۔غرض یہودیوں نے بوجه صلیبی موت کے جو اُن کے خیال میں تھی حضرت مسیح کی نسبت یہ نتیجہ نکالا کہ وہ نعوذ باللہ ملعون ہو کر شیطان کی طرف گئے نہ خدا کی طرف۔اور اُن کا رفع خدا کی طرف نہیں ہوا بلکہ شیطان کی طرف ہبوط ہوا۔کیونکہ شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہے۔ایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائے عرش ہے اور دوسری شیطان کی اور وہ بہت نیچی ہے اور اس کا انتہاز مین کا پاتال ہے۔غرض یہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مومن مرکز خدا کی طرف جاتا ہے۔اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت ارْجِعِي إِلى رَبِّک اس کی شاہد ہے اور کا فرنیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے جاتا ہے۔جیسا کہ آیت لَا تُفَتِّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ اس کی گواہ ہے۔خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے اور شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت۔اِن دونوں لفظوں میں تقابل اضداد ہے۔نادان لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھے۔یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر رفع کے معنے مع جسم اٹھانا ہے تو اس کے مقابل کا لفظ کیا ہوا۔جیسا کہ رفع رُوحانی کے مقابل پر لعنت ہے۔یہود نے خوب سمجھا تھا مگر بوجہ صلیب حضرت مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہو گئے اور نصاری نے بھی لعنت کو مان لیا مگر یہ تاویل کی کہ ہمارے گناہوں کے لئے مسیح پر لعنت پڑی اور معلوم ہوتا ہے کہ نصاری نے لعنت کے مفہوم پر توجہ نہیں کی کہ کیسا نا پاک مفہوم ہے جو رفع کے مقابل پر پڑا ہے جس سے انسان کی رُوح پلید ہو کر شیطان کی طرف جاتی ہے اور خدا کی طرف نہیں جاسکتی۔اسی غلطی سے انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ہیں۔اور کفارہ کے پہلوکو اپنی طرف سے تراش کر یہ پہلو اُن کی نظر سے چُھپ گیا کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ نبی کا دل ملعون ہو کر خدا کورڈ کر الفجر : 29 ۲۔الاعراف:41