فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 171

171 فلسطین سے کشمیر تک کرتے کرتے کشمیر پہنچ گئے۔لیکن یہودی اسی زعم باطل میں گرفتار ر ہے کہ گویا حضرت مسیح بذریعہ صلیب قتل کئے گئے کیونکہ جس طرز سے حضرت مسیح صلیب سے بچائے گئے تھے اور پھر مرہم عیسی سے زخم اچھے کئے گئے تھے اور پھر پوشیدہ طور پر سفر کیا گیا تھا یہ تمام امور یہودیوں کی نظر سے پوشیدہ تھے۔ہاں حواریوں کو اس راز کی خبر تھی اور گلیل کی راہ میں حواری حضرت مسیح سے ایک گاؤں میں اکٹھے ہی رات رہے تھے اور مچھلی بھی کھائی تھی با ایں ہمہ جیسا کہ انجیل سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے حواریوں کو حضرت مسیح نے تاکید سے منع کر دیا تھا کہ میرے اس سفر کا حال کسی کے پاس مت کہو سو حضرت مسیح کی یہی وصیت تھی کہ اس راز کو پوشیدہ رکھنا اور کیا مجال تھی کہ وہ اس خبر کو افشا کر کے نبی کے راز اور امانت میں خیانت کرتے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت مسیح کا نام سیاحت کرنے والا نبی رکھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح نے اکثر حصہ دنیا کا سیر کیا ہے اور یہ حدیث کتاب کنز العمال میں موجود ہے اور اسی بنا پر لُغتِ عرب کی کتابوں میں مسیح کی وجہ تسمیہ بہت سیاحت کرنے والا بھی لکھا ہے (دیکھو لسان العرب مسح کے لفظ میں۔منہ )۔غرض یہ قول نبوی کہ مسیح سیاح نبی ہے تمام سر بستہ راز کی بھی تھی اور اسی ایک لفظ سے آسمان پر جانا اور اب تک زندہ ہونا سب باطل ہوتا تھا مگر اس پر غور نہیں کی گئی۔اور اس بات پر غور کرنے سے واضح ہوگا کہ جبکہ عیسی مسیح نے زمانہ نبوت میں یہودیوں کے ملک سے ہجرت کر کے ایک زمانہ دراز اپنی عمر کا سیاحت میں گذارا تو آسمان پر کس زمانہ میں اُٹھائے گئے اور پھر اتنی مدت کے بعد ضرورت کیا پیش آئی تھی ؟ عجیب بات ہے یہ لوگ کیسے بیچ میں پھنس گئے ایک طرف یہ اعتقاد ہے کہ صلیبی فتنہ کے وقت کوئی اور شخص سولی مل گیا اور حضرت مسیح بلا توقف دوسرے آسمان پر جا بیٹھے اور دوسری طرف یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ صلیبی حادثہ کے بعد وہ اسی دنیا میں سیاحت کرتے رہے اور بہت سا حصہ عمر کا سیاحت میں گزارا۔عجب اندھیر ہے کوئی سوچتا نہیں کہ پیلاطوس کے ملک میں رہنے کا زمانہ تو بالا تفاق ساڑھے تین برس تھا۔اور دُور دراز ملکوں کے یہودیوں کو بھی دعوت کرنا مسیح کا ایک فرض تھا۔پھر وہ اس فرض کو چھوڑ کر آسمان پر کیوں چلے