فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 150

150 مسیح ہندوستان میں فلسطین سے کشمیر تک صفحہ ۶۴ میں مصنف مذکور کا قول ہے کہ معتبر کتب مثلاً تاریخ افغانی، تاریخ غوری و غیره میں یہ دعویٰ درج ہے " افغان بہت زیادہ حصہ تو بنی اسرائیل ہیں اور کچھ حصہ قبطی“۔نیز ابوالفضل کا بیان ہے کہ بعض افغان اپنے آپ کو مصری الاصل سمجھتے ہیں اور یہ وجہ پیش کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل یروشلم سے مصر واپس گئے۔اس فرقہ (یعنی افغان ) نے ہندوستان کو نقل مقام کیا۔اور صفحہ ۶۴ میں فرید الدین احمد افغان کے نام کی بابت یہ لکھتا ہے:۔افغان نام کی نسبت بعض نے یہ لکھا ہے کہ ( شام سے ) جلا وطنی کے بعد جب وہ ہر وقت اپنے وطن مالوف کا دل میں خیال لاتے تھے تو آہ وفغان کرتے تھے لہذا ان کا نام افغان ہوا اور یہی رائے سر جان ملکم کی ہے دیکھو ہسٹری آف پرشیا جلد اصفحہ ۱۰۱۔اور صفحہ ۶۳ میں مہابت خان کا بیان ہے کہ ”چوں ایشان از توابع ولواحق سلیمان علیہ السلام اند بنابراں ایشان را مردم عرب سلیمانی گویند اور صفحہ ۶۵ میں لکھا ہے تقریباً تمام مشرقی مؤرخوں کی یہی تحقیقات ہے کہ افغان قوم کا اپنا یہی اعتقاد ہے کہ وہ یہودی الاصل ہیں۔اور اس رائے کو زمانہ حال کے بعض مؤرخوں نے بھی اختیار کیا ہے یا غالباً صحیح سمجھا ہے۔۔۔۔اور یہ رواج کہ افغان یہودیوں کے نام اپنے نام رکھتے ہیں بیشک افغانوں کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے ہے (لیکن مترجم برنہارڈ دورن کا یہ خیال کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔پنجاب کے شمال و مغربی حصہ میں اکثر ایسی قومیں ہندی الاصل آباد ہیں جو آباد ہوگئی ہیں لیکن ان کے نام یہودی ناموں کی طرز پر ہرگز نہیں۔جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہو جانے سے ایک قوم میں یہودی نام داخل نہیں ہو جاتے ) افغان کے خط و خال یہودیوں سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور اس بات کو ان محققوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے جو افغانوں کے دعوائے یہودی الاصل ہونے پر کچھ التفات نہیں کرتے۔اور یہی ایک ثبوت ہے جو ان کے یہودی الاصل ہونے کے بارے میں مل سکتا ہے۔سرجان ملکم کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں : اگر چہ افغانوں کا (یہودیوں کی ) معز نسل سے ہونے کا دعویٰ بہت مشتبہ ہے۔لیکن ان کی شکل و ظاہری خط و خال اور ان کے اکثر رسوم سے یہ امرصاف ظاہر ہے کہ وہ