فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 143
143 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں مصنفہ ایچ ڈبلیو بلیوں سی ایس آئی مطبوعہ تھا کر سپنک اینڈ کو کلکتہ میں لکھا ہے کہ افغان لوگ ملک سیریا سے آئے ہیں۔بخت نصر نے انہیں قید کیا اور پرشیا اور میدیا کے علاقوں میں انہیں آباد کیا۔ان مقامات سے کسی بعد کے زمانہ میں مشرق کی طرف نکل کر غور کے پہاڑی ملک میں جابسے جہاں بنی اسرائیل کے نام سے مشہور تھے اس کے ثبوت میں ادریس نبی کی پیشگوئی ہے کہ دس قو میں اسرائیل کی جو قید میں ماخوذ ہوئی تھیں۔قید سے بھاگ کر ملک ارسارۃ میں پناہ گزین ہوئیں۔اور وہ اسی ملک کا نام معلوم ہوتا ہے جسے آج کل ہزارہ کہتے ہیں اور جو علاقہ غور میں واقع ہے۔طبقات ناصری جس میں چنگیز خان کی فتوحات ملک افغانستان کا ذکر ہے اس میں لکھا ہے کہ شنیسی خاندان کے عہد میں یہاں ایک قوم آباد تھی جس کو بنی اسرائیل کہتے تھے اور بعض ان میں بڑے بڑے تاجر تھے۔یہ لوگ ۱۲۲ ء میں جبکہ محمد یعنی اس زمانہ میں جبکہ سیدنا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کا اعلان کیا ہرات کے مشرقی علاقہ میں آباد تھے ایک قریش سردار خالد ابن ولید نامی اُن کے پاس رسالت کی خبر لے کر آیا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جھنڈے کے نیچے آئیں۔پانچ چھ سردار منتخب ہو کر اس کے ساتھ ہوئے جن میں بڑا قیس تھا جس کا دوسرا نام رکش ہے۔یہ لوگ مسلمان ہو کر اسلام کی راہ میں بڑی جان فشانی سے لڑے اور فتوحات حاصل کیں اور ان کی واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ان کو بہت تھے دیئے اور ان پر برکت بھیجی اور پیشگوئی کی کہ اس قوم کو عروج حاصل ہوگا۔اور بطور پیشگوئی فرمایا کہ ہمیشہ ان کے سردار ملک کے لقب سے مشہور ہوا کریں گے اور قیس کا نام عبدالرشید رکھ دیا اور پہطان کے لقب سے سرفرازا۔اور لفظ پہطان کی نسبت افغان مؤلّف یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک سریانی لفظ ہے جس کے معنی جہاز کا سگان ہے اور چونکہ نو مسلم قیس اپنی قوم کی رہنمائی کے لئے جہاز کے سُکان کی طرح تھا اس لئے پہطان کا خطاب اس کو ملا۔اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ کسی زمانہ میں غور کے افغان آگے بڑھے اور علاقہ قندھار میں جو آج کل ان کا وطن ہے آباد ہوئے۔غالباً اسلام کی پہلی صدی میں ایسا ظہور میں 1۔H۔W۔Bellew,