فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 132
132 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں نظر کے ساتھ دیکھنے سے یقینا سمجھ میں آتا ہے کہ ضرور حضرت مسیح علیہ السلام تبت کی طرف تشریف لے گئے تھے اور خود جس قدر تبت کے بدھ مذہب میں عیسائی تعلیم اور رسوم دخل کر گئے ہیں اس قدر گہرا دخل اس بات کو چاہتا ہے کہ حضرت مسیح ان لوگوں کو ملے ہوں اور بدھ مذہب کے سرگرم مریدوں کا ان کی ملاقات کے لئے ہمیشہ منتظر ہونا جیسا کہ بدھ کی کتابوں میں اب تک لکھا ہوا موجود ہے بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ یہ انتظار شدید حضرت مسیح کے ان کے اس ملک میں آنے کے لئے پیش خیمہ تھا۔اور دونوں امور متذکرہ بالا کے بعد کسی منصف مزاج کو اس بات کی حاجت نہیں رہتی کہ وہ بدھ مذہب کی ایسی کتابوں کو تلاش کرے جن میں لکھا ہوا ہو کہ حضرت مسیح تبت کے ملک میں آئے تھے۔کیونکہ جبکہ بدھ کی پیشگوئی کے مطابق آنے کی انتظار شدید تھی تو وہ پیشگوئی اپنی کشش سے حضرت مسیح کوضرور تبت کی طرف کھینچ لائی ہوگی۔اور یاد رکھنا چاہئیے کہ متیا کا نام جو بدھ کی کتابوں میں جابجا مذکور ہے بلاشبہ وہ مسیحا ہے۔کتاب تبت تا تار منگولیا بائی ایچ ٹی پر نسب * کے صفحہ ۱۴ میں متیا بدھ کی نسبت جو دراصل مسیحا ہے یہ لکھا ہے کہ جو حالات ان پہلے مشنریوں (عیسائی واعظوں) نے تبت میں جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سنے۔ان حالات پر غور کرنے سے وہ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ لاموں کی قدیم کتب میں عیسائی مذہب کے آثار موجود ہیں۔اور پھر اسی صفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ متقدمین یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے حواری ابھی زندہ ہی تھے کہ جبکہ عیسائی دین کی تبلیغ اس جگہ پہنچ گئی تھی اور پھر اے اصفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وقت عام انتظار ایک بڑے منجی کے پیدا ہونے کی لگ رہی تھی جس کا ذکر ٹے سے ٹس نے اس طرح پر کیا ہے کہ اس انتظار کا مدار نہ صرف یہودی تھے بلکہ خود بُدھ مذہب نے ہی اس انتظار کی بنیاد ڈالی تھی یعنی اس ملک میں متیا کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔اور پھر اس کتاب انگریزی پر مصنف نے ایک نوٹ لکھا ہے اس کی یہ عبارت ہے۔کتاب پتاکتیان اور اتھا کتھا میں ایک اور بدھ کے نزول کی پیشگوئی بڑی واضح طور پر درج ہے جس کا ظہور گوتم یا ساکھی منی سے ایک ہزار سال بعد لکھا گیا ہے۔گوتما بیان کرتا ہے کہ میں پچیسواں بُدھ ہوں۔اور بگو امتیا نے Tibet Tartary And Mongolia by Henry T۔Prinsep