فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 124
124 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں شیطان نے ان کو کہا کہ اگر تو مجھے سجدہ کرے تو تمام دنیا کی دولتیں اور بادشاہتیں تیرے لئے ہوں گی۔یہی آزمائش بدھ کی بھی کی گئی اور شیطان نے اس کو کہا کہ اگر تو میرا یہ حکم مان لے کہ ان فقیری کے کاموں سے باز آ جائے اور گھر کی طرف چلا جائے تو میں تجھ کو بادشاہت کی شان و شوکت عطا کروں گا لیکن جیسا کہ مسیح نے شیطان کی اطاعت نہ کی ایسا ہی لکھا ہے کہ بدھ نے بھی نہ کی۔دیکھو کتاب ٹی ڈبلیورائس ڈیوڈس بدھ ازم۔اور کتاب مونیر ولیمس بدھ ازم کے * اب اس سے ظاہر ہے کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ السلام انجیل میں کئی قسم کے خطاب اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔یہی خطاب بُدھ کی کتابوں میں جو اس سے بہت عرصہ پیچھے لکھی گئی ہیں بدھ کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔اور جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام شیطان سے آزمائے گئے ایسا ہی ان کتابوں میں بدھ کی نسبت دعوی کیا گیا ہے کہ وہ بھی شیطان سے آزمایا گیا بلکہ ان کتابوں میں اس سے زیادہ بدھ کی آزمائش کا ذکر ہے اور لکھا ہے کہ جب شیطان بدھ کو دولت اور بادشاہت کی طمع دے چکا تب بدھ کو خیال پیدا ہوا کہ کیوں اپنے گھر کی طرف واپس نہ جائے۔لیکن اس نے اس خیال کی پیروی نہ کی اور پھر ایک خاص رات میں وہی شیطان اس کو پھر ملا اور اپنی تمام ذریات ساتھ لایا اور ہیبت ناک صورتیں بنا کر اس کو ڈرایا اور بدھ کو وہ شیاطین سانپوں کی طرح نظر آئے جن کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے اور ان سانپوں نے زہر اور آگ اس کی طرف پھینکنی شروع کی لیکن زہر پھول بن جاتے تھے اور آگ بُدھ کے گرد ایک ہالہ بنالیتی تھی۔پھر جب اس طرح پر کامیابی نہ ہوئی تو شیطان نے اپنی سولہ لڑکیوں کو بلایا اور اُن کو کہا کہ تم اپنی خوبصورتی بدھ پر ظاہر کرو لیکن اس سے بھی بدھ کے دل کو تزلزل نہ ہوا اور شیطان اپنے ارادوں میں نامراد رہا اور شیطان نے اور اور طریقے بھی اختیار کئے مگر بدھ کے استقلال کے سامنے اس کی کچھ پیش نہ گئی اور بدھ اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب کو طے کرتا گیا اور آخر کار ایک لمبی رات کے بعد یعنی سخت آزمائشوں اور دیر پا امتحانوں کے پیچھے بدھ نے اپنے دشمن یعنی شیطان کو مغلوب کیا اور سچے علم کی روشنی اس پر کھل گئی اور صبح ہوتے ہی یعنی امتحان سے کم نیز دیکھو چائنیز بدھ ازم مصنفہ اڈکٹس + بدھ مصنفہ اولڈن برگ ترجمہ ڈبلیو ہوئی، لائف آف بدھ۔ترجمہ راک ہل۔منہ 1۔Buddhism by T۔W۔Rhys Davids, 2۔Buddhism by Sir Monier Williams