فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 97

97 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں سے خدائی منوانا چاہتے تھے مگر وہ تو اس گواہی کے بعد نبوت سے بھی منکر ہو بیٹھے۔غرض ایسے عقیدے نہایت مضر اور بداثر ڈالنے والے ہیں کہ ایسا یقین کیا جائے کہ یہ لاکھوں مردے یا اس سے پہلے کوئی مردہ حضرت مسیح نے زندہ کیا تھا کیونکہ ان مردوں کے زندہ ہونے کے بعد کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوا۔یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ اگر مثلاً کوئی شخص کسی دور دراز ملک میں جاتا ہے اور چند برس کے بعد اپنے شہر میں واپس آتا ہے تو طبعا اس کے دل میں یہ جوش ہوتا ہے کہ اس ملک کے عجائب غرائب لوگوں کے پاس بیان کرے اور اس ولایت کے عجیب در عجیب واقعات سے ان لوگوں کو اطلاع دے نہ یہ کہ اتنی مدت کی جدائی کے بعد جب اپنے لوگوں کو ملے تو زبان بند ر کھے اور گونگوں کی طرح بیٹھا رہے بلکہ ایسے موقعہ میں دوسرے لوگوں میں بھی فطرتا یہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے پاس دوڑے آتے ہیں اور اُس ملک کے حالات اس سے پوچھتے ہیں اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ ان لوگوں کے ملک میں کوئی غریب شکستہ حال وارد ہو جس کی ظاہری حیثیت غریبانہ ہو اور وہ دعوی کرتا ہو کہ میں اُس ملک کا بادشاہ ہوں جس کے پایہ تخت کا سیر کر کے یہ لوگ آئے ہیں۔اور میں فلاں فلاں بادشاہ سے بھی اپنے شاہانہ مرتبہ میں اول درجہ پر ہوں تو لوگ ایسے سیاحوں سے ضرور پوچھا کرتے ہیں کہ بھلا یہ تو بتلائیے کہ فلاں شخص جو ان دنوں میں ہمارے ملک میں اس ملک سے آیا ہوا ہے کیا سچ مچ یہ اس ملک کا بادشاہ ہے اور پھر وہ لوگ جیسا کہ واقعہ ہو بتلا دیا کرتے ہیں تو اس صورت میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح کے ہاتھ سے مُردوں کا زندہ ہونا فقط اس حالت میں قابلِ پذیرائی ہوتا جبکہ وہ گواہی جو ان سے پوچھی گئی ہوگی جس کا پوچھا جانا ایک طبعی امر ہے کوئی مفید نتیجہ بخشتی لیکن اس جگہ ایسا نہیں ہے۔پس ناچار اس بات کے فرض کرنے سے کہ مُردے زندہ ہوئے تھے اس بات کو بھی ساتھ ہی فرض کرنا پڑتا ہے کہ ان مردوں نے حضرت مسیح کے حق میں کوئی مفید گواہی نہیں دی ہوگی جس سے ان کی سچائی تسلیم کی جاتی بلکہ ایسی گواہی دی ہوگی جس سے اور بھی فتنہ بڑھ گیا ہو گا۔کاش اگر انسانوں کی جگہ دوسرے چارپایوں کا زندہ کرنا بیان کیا جاتا تو اس میں بہت کچھ پردہ پوشی متصور تھی۔مثلاً یہ کہا جاتا کہ حضرت مسیح نے