فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 96
مسیح ہندوستان میں 96 فلسطین سے کشمیر تک موقعہ کو انہوں نے ہاتھ سے نہ دیا ہوگا اور ضرور دریافت کیا ہوگا کہ یہ شخص کیسا ہے کیونکہ یہودی ان باتوں کے بہت حریص تھے کہ اگر مردے دنیا میں دوبارہ آجائیں تو ان سے دریافت کریں تو پھر جس حالت میں لاکھوں مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے اور ہر ایک محلہ میں ہزاروں مردے چلے گئے تو ایسے موقعہ کو یہودی کیونکر چھوڑ سکتے تھے ضرور انہوں نے نہ ایک نہ دو سے بلکہ ہزاروں سے پوچھا ہوگا اور جب یہ مردے اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوئے ہوں گے۔تو ان لاکھوں انسانوں کے دنیا میں دوبارہ آنے سے گھر گھر میں شور پڑ گیا ہوگا اور ہر ایک گھر میں یہی شغل اور یہی ذکر اور یہی تذکرہ شروع ہو گیا ہوگا کہ مردوں سے پوچھتے ہوں گے کہ کیا آپ لوگ اس شخص کو جو یسوع مسیح کہلاتا ہے حقیقت میں خدا جانتے ہیں۔مگر چونکہ مُردوں کی اس گواہی کے بعد جیسا کہ امید تھی یہودی حضرت مسیح پر ایمان نہیں لائے اور نہ کچھ نرم دل ہوئے بلکہ اور بھی سخت دل ہو گئے تو غالباً معلوم ہوتا ہے کہ مردوں نے کوئی اچھی گواہی نہیں دی۔بلکہ بلا توقف یہ جواب دیا ہوگا کہ یہ شخص اپنے اس دعوئی خدائی میں بالکل جھوٹا ہے اور خدا پر بہتان باندھتا ہے تبھی تو لاکھوں انسان بلکہ پیغمبروں اور رسولوں کے زندہ ہونے کے بعد بھی یہودی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور حضرت مسیح کو مار کر پھر دوسروں کے قتل کی طرف متوجہ ہوئے۔بھلا یہ بات سمجھ آ سکتی ہے کہ لاکھوں راستباز کہ جو حضرت آدم سے لے کر حضرت یحی تک اس زمین پاک کی قبروں میں سوئے ہوئے تھے وہ سب کے سب زندہ ہو جائیں اور پھر وعظ کرنے کے لئے شہر میں آئیں اور ہر ایک کھڑا ہو کر ہزار ہا انسانوں کے سامنے یہ گواہی دے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کا بیٹا بلکہ خود خدا ہے اسی کی پوجا کیا کرو اور پہلے خیالات کو چھوڑو ورنہ تمہارے لئے جہنم ہے جس کو خود ہم دیکھ کر آئے ہیں۔اور پھر باوجود اس اعلیٰ درجہ کی گواہی اور شہادت رویت کے جو لاکھوں راستباز مردوں کے منہ سے نکلی یہودی اپنے انکار سے باز نہ آئیں۔ہمارا کانشنس تو اس بات کو نہیں مانتا۔پس اگر فی الحقیقت لاکھوں راستباز فوت شدہ پیغمبر اور رسول وغیرہ زندہ ہو کر گواہی کے لئے شہر میں آئے تھے تو کچھ شک نہیں کہ انہوں نے کچھ الٹی ہی گواہی دی ہوگی اور ہر گز حضرت مسیح کی خدائی کو تصدیق نہیں کیا ہوگا تبھی تو یہودی لوگ مردوں کی گواہیوں کو سن کر اپنے کفر پر پکے ہو گئے اور حضرت مسیح تو ان