فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 95

مسیح ہندوستان میں 95 فلسطین سے کشمیر تک اور اس جگہ یہ بھی بیان کر دینے کے لائق ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں جو لکھا ہے کہ اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔اس جگہ زمین سے مراد بلاد شام کی زمین ہے جس سے یہ تینوں تو میں تعلق رکھتی ہیں۔یہودی اس لئے کہ وہی ان کا مبدء اور منبع ہے اور اسی جگہ اُن کا معبد ہے۔عیسائی اس لئے کہ حضرت مسیح اسی جگہ ہوئے ہیں اور عیسائی مذہب کی پہلی قوم اسی ملک میں پیدا ہوئی ہے۔مسلمان اس لئے کہ وہ اس زمین کے قیامت تک وارث ہیں اور اگر زمین کے لفظ کے معنی ہر یک زمین لی جائے تب بھی کچھ حرج نہیں کیونکہ حقیقت کھلنے پر ہر یک مکذب نادم ہوگا۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل متی کی وہ عبارت ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔اور قبریں کھل گئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھیں اٹھیں اور اس کے اٹھنے کے بعد ( یعنی مسیح کے اٹھنے کے بعد ) قبروں میں سے نکل کر اور مقدس شہر میں جا کر بہتوں کو نظر آئیں۔دیکھو انجیل متی باب ۲۷ آیت ۵۲۔اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ قصہ جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے کہ مسیح کے اٹھنے کے بعد پاک لوگ قبروں میں سے باہر نکل آئے اور زندہ ہو کر بہتوں کو نظر آئے یہ کسی تاریخی واقعہ کا بیان نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر گویا اسی دنیا میں قیامت نمودار ہو جاتی اور وہ امر جو صدق اور ایمان دیکھنے کے لئے دنیا پر مخفی رکھا گیا تھا وہ سب پر کھل جاتا اور ایمان ایمان نہ رہتا اور ہر یک مومن اور کافر کی نظر میں آنے والے عالم کی حقیقت ایک بدیہی چیز ہو جاتی جیسا کہ چاند اور سورج اور دن اور رات کا وجود بدیہی ہے تب ایمان ایسی قیمتی اور قابل قدر چیز نہ ہوتی جس پر اجر پائیں گے کچھ امید ہوسکتی۔لوگ اور بنی اسرائیل کے گذشتہ نبی جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے سچ سچ واقعہ صلیب کے وقت زندہ ہو گئے تھے اور زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے اور حقیقت میں مسیح کی سچائی اور خدائی ثابت کرنے کے لئے یہ معجزہ دکھلایا گیا تھا جو صدہا نبیوں اور لاکھوں راستبازوں کو ایک دم میں زندہ کر دیا گیا تو اس صورت میں یہودیوں کو یہ ایک عمدہ موقعہ ملا تھا کہ وہ زندہ شدہ نبیوں اور دوسرے راستبازوں اور اپنے فوت شدہ باپ دادوں سے مسیح کی نسبت دریافت کرتے کہ کیا یہ شخص جو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت خدا ہے یا کہ اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہے اور قرین قیاس ہے کہ اس پائیں گئے سہو کتابت ہے۔درست پانے کی ہے۔