فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 94

94 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں میں پیشگوئی کی گئی ہے تو اس صورت میں عیسائی اس ماتم سے کیونکر باہر رہ سکتے ہیں۔کیا وہ قوم نہیں ہیں۔اور جبکہ وہ بھی اس آیت کے رو سے چھاتی پیٹنے والوں میں داخل ہیں تو پھر وہ کیوں اپنی نجات کا فکر نہیں کرتے۔اس آیت میں صاف طور پر بتلایا گیا ہے کہ جب مسیح کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا تو زمین پر جتنی قومیں ہیں وہ چھاتی پیٹیں گی۔سوایسا شخص میسیج کو جھٹلاتا ہے جو کہتا ہے کہ ہماری قوم چھاتی نہیں پیٹے گی۔ہاں وہ لوگ چھاتی پیٹنے کی پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے جن کی جماعت ابھی تھوڑی ہے اور اس لائق نہیں ہے جو اُس کو قوم کہا جائے۔اور وہ ہمارا فرقہ ہے بلکہ یہی ایک فرقہ ہے جو پیشگوئی کے اثر اور دلالت سے باہر ہے کیونکہ اس فرقہ کے ابھی چند آدمی ہیں جو کسی طرح قوم کا لفظ ان پر صادق نہیں آ سکتا۔مسیح نے خدا سے الہام پا کر بتلایا کہ جب آسمان پر ایک نشان ظاہر ہو گا تو زمین کے کل وہ گروہ جو باعث اپنی کثرت کے قوم کہلانے کے مستحق ہیں چھاتی پیٹیں گے اور کوئی ان میں سے باقی نہیں رہے گا مگر وہی کم تعدا دلوگ جن پر قوم کا لفظ صادق نہیں آ سکتا۔اس پیشگوئی کے مصداق سے نہ عیسائی باہر رہ سکتے ہیں اور نہ اس زمانہ کے مسلمان اور نہ یہودی اور نہ کوئی اور مکذب۔صرف ہماری یہ جماعت باہر ہے کیونکہ ابھی خدا نے ان کو تخم کی طرح بویا ہے۔نبی کا کلام کسی طور سے جھوٹا نہیں ہوسکتا۔جبکہ کلام میں صاف یہ اشارہ ہے کہ ہر ایک قوم جو زمین پر ہے چھاتی پیٹے گی تو ان قوموں میں سے کونسی قوم باہر رہ سکتی ہے۔مسیح نے تو اس آیت میں کسی قوم کا استثنا نہیں کیا۔ہاں وہ جماعت بہر صورت مستقی ہے جو ابھی قوم کے اندازہ تک نہیں پہنچی یعنی ہماری جماعت۔اور یہ پیشگوئی اس زمانہ میں نہایت صفائی سے پوری ہوئی کیونکہ وہ سچائی جو حضرت مسیح کی نسبت اب پوری ہوئی ہے وہ بلاشبہ ان تمام قوموں کے ماتم کا موجب ہے کیونکہ اس سے سب کی غلطی ظاہر ہوتی ہے اور سب کی پردہ دری ظہور میں آتی ہے۔عیسائیوں کے خدا بنانے کا شور وغوغا حسرت کی آہوں سے بدل جاتا ہے۔مسلمانوں کا دن رات کا ضد کرنا کہ مسیح آسمان پر زندہ گیا۔آسمان پر زندہ گیا رونے اور ماتم کے رنگ میں آ جاتا ہے اور یہودیوں کا تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔