فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 93
مسیح ہندوستان میں 93 فلسطین سے کشمیر تک جانے کی وجہ سے ان کو لعنتی سمجھتی تھیں جیسا کہ یہود۔ان کے جھوٹ پر بھی آسمان گواہی دے گا کیونکہ یہ حقیقت بخوبی کھل جائے گی کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے اس لئے لعنتی بھی نہیں ہوئے تب زمین کی تمام قومیں جنہوں نے ان کے حق میں افراط یا تفریط کی تھی ماتم کریں گی اور اپنی غلطی کی وجہ سے سخت ندامت اور خجالت ان کے شامل حال ہوگی۔اور اسی زمانہ میں جبکہ یہ حقیقت کھل جائے گی لوگ روحانی طور پر مسیح کو زمین پر نازل ہوتے دیکھیں گے۔یعنی ان ہی دنوں میں مسیح موعود جو ان کی قوت اور طبیعت میں ہو کر آئے گا آسمانی تائید سے اور اس قدرت اور جلال سے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس کے شامل ہوگی اپنے چمکتے ہوئے ثبوت کے ساتھ ظاہر ہوگا اور پہچانا جائے گا۔اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر سے حضرت عیسی علیہ السلام کا ایسا وجود ہے اور ایسے واقعات ہیں جو بعض قوموں نے ان کی نسبت افراط کیا ہے اور بعض نے تفریط کی راہ لی ہے۔یعنی ایک وہ قوم ہے کہ جو انسانی لوازم سے ان کو دور تر لے گئی ہے۔یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے اور آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔اور ان سے بڑھ کر وہ قوم ہے جو کہتے ہیں کہ صلیب پر فوت ہو کر اور پھر دوبارہ زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے ہیں اور خدائی کے تمام اختیار ان کو مل گئے ہیں بلکہ وہ خود خدا ہیں۔اور دوسری قوم یہودی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر مارے گئے اس لئے نعوذ باللہ وہ ہمیشہ کے لئے لعنتی ہوئے اور ہمیشہ کے لئے مور دغضب۔اور خدا اُن سے بیزار ہے اور بیزاری اور دشمنی کی نظر سے ان کو دیکھتا ہے اور وہ کا ذب اور مفتری اور نعوذ باللہ کا فر اور ملحد ہیں اور خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔سو یہ افراط اور تفریط ایسا ظلم سے بھرا ہوا طریق تھا کہ ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ اپنے بچے نبی کو ان الزاموں سے بری کرتا۔سوانجیل کی آیت مذکورہ بالا کا اسی بات کی طرف اشارہ ہے اور یہ جو کہا کہ زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔یہ اس بات کی طرف ایما کی گئی ہے کہ وہ تمام فرقے جن پر قوم کا لفظ اطلاق پاسکتا ہے اس روز چھاتی پیٹیں گی اور جزع فزع کریں گی اور ان کا ماتم سخت ہوگا۔اس جگہ عیسائیوں کو ذرہ توجہ سے اس آیت کو پڑھنا چاہئیے اور سوچنا چاہیے کہ جبکہ اس آیت میں کل قوموں کے چھاتی پیٹنے کے بارے